پوپ لیو چہاردہم نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے جنوبی یوکرین کے خرسون خطے میں روسی کنٹرول والے شہر اولیشکی کے لیے انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ویٹیکن کے سرکاری بیان کے مطابق پوپ نے شہر کی سنگین انسانی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی اور خوراک و طبی امداد پہنچانے کے ساتھ شہری آبادی کے رضاکارانہ اور محفوظ انخلا کے لیے لڑائی روکنے کی اپیل کی۔

ویٹیکن نیوز کے مطابق پوپ نے گفتگو میں ہولی سی کی جانب سے مکالمے اور امن کو فروغ دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ یہ رابطہ ایسے وقت ہوا جب پوپ روم کے جیمیلی اسپتال میں پھیپھڑے کے سرطان کی سرجری کے بعد صحت یاب ہو رہے ہیں۔ ویٹیکن نے اسی روز ان کی تصاویر بھی جاری کیں جن میں وہ اسپتال میں عبادت کی قیادت کرتے دکھائی دیے، جس سے واضح ہوا کہ وہ علاج کے دوران بھی بعض سفارتی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق کریملن نے کہا کہ صدر پیوٹن نے ویٹیکن کی اس کوشش کی حمایت کی جس کا مقصد اولیشکی میں شہریوں کی حفاظت اور ضروری سامان کی فراہمی کے حالات پیدا کرنا ہے، اور روس تعاون کے لیے تیار ہے۔ تاہم روسی بیان نے پوپ کی درخواست کے مطابق باقاعدہ جنگ بندی کی واضح منظوری کا اعلان نہیں کیا۔ اس لیے تعاون کی آمادگی اور عملی جنگ بندی کو ایک ہی نتیجہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

اولیشکی فروری 2022 سے روسی کنٹرول میں ہے اور حالیہ ہفتوں میں وہاں خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی قلت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ روس اور یوکرین ایک دوسرے پر امدادی رسائی میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات عائد کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے بھی شہر کی صورتحال کو انتہائی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے شہریوں کے محفوظ انخلا کے لیے روس سے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

اے پی کے مطابق شہر میں اب بھی تقریباً 1,700 افراد، جن میں بچے بھی شامل ہیں، موجود ہیں۔ جنگ، تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے اور محفوظ راستوں کی کمی نے امدادی کام کو مشکل بنا دیا ہے۔ انسانی راہداری یا محدود جنگ بندی کی کسی عملی شکل کے لیے فریقین کے درمیان زمینی سطح پر واضح انتظامات، سلامتی کی ضمانتیں اور امدادی اداروں کی رسائی درکار ہوگی۔

پوپ کی اپیل ایک انسانی سفارتی مداخلت ہے اور اسے وسیع روس-یوکرین جنگ کے سیاسی تصفیے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔ فوری سوال یہ ہے کہ آیا ماسکو کی تعاون کی آمادگی اولیشکی میں قابلِ عمل امدادی رسائی، خوراک و ادویات کی ترسیل اور شہریوں کے محفوظ انخلا میں تبدیل ہوتی ہے یا نہیں۔