واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے روس کی توانائی آمدن اور اس سے متعلق شعبوں کو نشانہ بنانے والی نئی امریکی پابندیوں اور محصولات کے بڑے حصے سے استثنا دے دیا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی یورپی اتحادیوں سے آئندہ سال کے لیے مزید مالی اور دفاعی مدد مانگ رہے ہیں اور واشنگٹن و کیف کے تعلقات میں تناؤ بڑھا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ قانون بننے والی قانون سازی نے امریکی صدر کو روسی تیل اور گیس کے بڑے خریداروں پر 100 فیصد تک محصولات عائد کرنے کا اختیار دیا تھا۔ اس قانون میں روس کے توانائی اور دفاعی شعبوں، صدر ولادیمیر پوٹن سمیت اعلیٰ حکام اور پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے نام نہاد شیڈو فلیٹ کو بھی ہدف بنایا گیا تھا۔ نئے صدارتی اقدام کے بعد ان اقدامات کے نفاذ میں وسیع نرمی پیدا ہوگئی ہے۔
اے ایف پی نے اس تبدیلی کو روس کے ساتھ ایک ایسے انتظام کے تناظر میں بیان کیا جس کے تحت ماسکو کی جانب سے عالمی منڈی میں بڑی مقدار میں ڈیزل جاری کرنے کے بدلے پابندیوں میں نرمی کی گئی۔ توانائی کی قیمتوں اور رسد پر دباؤ امریکی داخلی سیاست کے لیے بھی اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ تاہم اس اقدام کے طویل مدتی اثرات، روسی برآمدات میں ممکنہ اضافے اور یوکرین کی جنگی صلاحیت پر اس کے نتائج کا فوری طور پر حتمی اندازہ ممکن نہیں۔
دوسری جانب زیلنسکی نے برسلز میں یورپی رہنماؤں سے کہا کہ یوکرین کو روسی میزائل حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید پیٹریاٹ نظام اور اگلے سال تقریباً 70 ارب یورو کی اضافی مدد درکار ہوگی۔ یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے کہا کہ موجودہ وقت یوکرین کی حمایت کم کرنے یا روس پر دباؤ نرم کرنے کا نہیں۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لائن نے بھی یوکرین کی مالی ضرورت پوری کرنے کے لیے شراکت داروں کی شرکت پر زور دیا۔
یہ پیش رفت امریکا، یورپ اور یوکرین کے درمیان روس سے متعلق حکمت عملی میں بڑھتے اختلافات کی عکاسی کرتی ہے۔ یورپی رہنماؤں کے لیے ایک طرف یوکرین کی فوری دفاعی اور بجٹ ضروریات پوری کرنا چیلنج ہے، جبکہ دوسری طرف واشنگٹن کی پابندیوں سے متعلق نئی سمت مغربی اتحاد کے مشترکہ دباؤ کی پالیسی پر سوالات اٹھا رہی ہے۔

