روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ ماسکو یوکرین کے اندر دونوں ممالک کی سرحد کے ساتھ ایک ’سکیورٹی زون‘ قائم کر رہا ہے اور روس اس علاقے کو مستقبل میں کیف کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات کا موضوع بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ رائٹرز کے مطابق پیوٹن نے یہ بات فوجی وردی میں ایک کمانڈ پوسٹ کے دورے کے دوران اعلیٰ فوجی افسران سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

پیوٹن نے روسی اقدام کو 2024 اور 2025 کے دوران یوکرینی افواج کی روس کے مغربی کرسک خطے میں دراندازی کے ردعمل سے جوڑا۔ ان کے مطابق روسی فوج کو اپنی سرزمین سے یوکرینی افواج کو نکالنے کے ساتھ ملحقہ علاقے میں حفاظتی پٹی قائم کرنے کا کام بھی دیا گیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ کام کامیابی سے جاری ہے اور اس کا مقصد روسی سرحدی علاقوں کی طویل مدتی سلامتی یقینی بنانا ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ مجوزہ سکیورٹی زون تقریباً 660 کلومیٹر، یعنی 410 میل، تک پھیلا ہوا ہے اور ان کے مطابق اس کا لگ بھگ 70 فیصد حصہ اس وقت روسی کنٹرول میں ہے۔ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ پٹی یوکرین کے اندر کتنی گہرائی تک جائے گی۔ روسی دعوؤں کی آزادانہ تصدیق جنگی حالات میں محدود ہے اور کیف نے روسی قبضے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اپنی علاقائی سالمیت بحال کرنے کا مؤقف برقرار رکھا ہے۔

رائٹرز کے مطابق اس منصوبے کے لیے روس کو یوکرین کے سومی اور خارکیف علاقوں میں مزید زمین پر کنٹرول درکار ہوگا۔ یہ دونوں علاقے ان یوکرینی خطوں میں شامل نہیں جنہیں ماسکو نے 2022 میں جنگ شروع ہونے کے بعد اپنے ساتھ ضم کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اسی وجہ سے مجوزہ حفاظتی پٹی مستقبل کے کسی امن معاہدے میں سرحدوں اور مقبوضہ علاقوں سے متعلق مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

پیوٹن نے ڈونیٹسک اور زاپوریژیا میں روسی فوجی پیش رفت کے بارے میں بھی دعوے کیے اور یوکرینی فوجی، صنعتی اور لاجسٹک اہداف پر روسی حملوں کی تعریف کی۔ ان دعوؤں اور میدان جنگ کی مخصوص شرحوں کو دونوں فریق مختلف انداز میں پیش کرتے ہیں، اس لیے انہیں حتمی آزادانہ اعداد و شمار نہیں سمجھا جا سکتا۔

یہ اعلان ایسے وقت ہوا ہے جب جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی سرگرمیوں کے ساتھ امریکا، روس اور یوکرین کے تعلقات میں نئی تبدیلیاں سامنے آ رہی ہیں۔ کسی بھی حتمی امن تصفیے میں علاقائی کنٹرول، سلامتی کی ضمانتیں اور سرحدی انتظام بنیادی تنازعات میں شامل رہیں گے، جبکہ یوکرین اپنے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ علاقوں پر روسی قبضے کو قبول نہیں کرتا۔