روم: اٹلی کے مختلف شہروں میں ہزاروں طلبہ اور کارکن سڑکوں پر نکل آئے اور تعلیمی اداروں کے لیے زیادہ فنڈنگ، رہائش میں سہولت اور بڑھتی ہوئی لاگتِ زندگی سے ریلیف کا مطالبہ کیا۔ اے ایف پی کی ڈان میں شائع رپورٹ کے مطابق مظاہرے حالیہ ہفتوں میں یورپ کے مختلف ممالک میں ہونے والے نوجوانوں کے احتجاج کی ایک بڑی کڑی تھے اور بیشتر مقامات پر پرامن رہے۔
اٹلی کی یو ایس بی ٹریڈ یونین نے ملک گیر عام ہڑتال کی کال دی تھی، جس میں ٹرک ڈرائیور، ٹیکسی ڈرائیور اور کسان بھی شریک ہوئے۔ یونین نے دعویٰ کیا کہ جمعہ کے روز ملک بھر میں 10 لاکھ سے 15 لاکھ افراد نے احتجاج میں حصہ لیا، تاہم حکام نے شرکا کی کوئی سرکاری مجموعی تعداد جاری نہیں کی۔ اس لیے یونین کا تخمینہ آزاد سرکاری تصدیق کے بغیر رپورٹ شدہ دعویٰ ہے۔
طلبہ کے مطالبات میں اسکولوں کی عمارتوں اور سہولتوں کی بہتری، یونیورسٹی اخراجات اور مہنگی رہائش کے مسئلے پر توجہ شامل تھی۔ روم میں مظاہرین مرکزی ریلوے اسٹیشن سے جلوس کی صورت میں کولوزیم اور وزارتِ معیشت کے قریب سے گزرے۔ رپورٹ میں طلبہ نے کرایوں اور تعلیمی اخراجات کو نوجوانوں اور ان کے خاندانوں پر بڑھتا ہوا مالی بوجھ قرار دیا۔
مزدور اور ٹرانسپورٹ شعبے کے شرکا نے ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور دفاعی اخراجات میں اضافے پر بھی اعتراض کیا۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ سے منسلک ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اطالوی حکومت نے حال ہی میں ٹرک ڈرائیوروں، کسانوں اور ماہی گیروں کے لیے 175.2 ملین یورو کے امدادی پیکیج پر اتفاق کیا تھا۔ حکومت کے 2027 کے مجوزہ بجٹ میں نوجوان کارکنوں اور خاندانوں کے لیے مزید اقدامات بھی زیر بحث ہیں۔
میلان میں مظاہرہ مرکزی ریلوے اسٹیشن سے شروع ہوا اور شہر کے مرکزی حصے سے دور رکھا گیا، جہاں دو ہفتے پہلے ایک دوسرے احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ اور پولیس سے جھڑپیں ہوئی تھیں۔ جمعہ کے ملک گیر احتجاج میں پولیس مختلف شہروں میں تعینات رہی۔ تورین میں پولیس نے مظاہرین کو ایک سرکاری عمارت سے دور رکھنے کے لیے لاٹھیوں اور واٹر کینن کا استعمال کیا، جبکہ روم میں احتجاج کے اختتام پر چند مظاہرین کی جانب سے بوتلیں پھینکنے اور کچرے کے ڈبے کو آگ لگانے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
وزیراعظم جارجیا میلونی کی حکومت نے اکتوبر کے وسط میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد عوامی اجتماعات سے متعلق قوانین سخت کیے تھے۔ دوسری جانب حکومت نوجوانوں کے لیے معاشی اقدامات پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ موجودہ مظاہرے اس وسیع دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں تعلیم، رہائش، ایندھن اور روزمرہ اخراجات کے مسائل نوجوانوں اور محنت کش طبقے کے سیاسی مطالبات کو ایک مشترکہ احتجاجی پلیٹ فارم پر لا رہے ہیں۔

