عمان: جنوبی اردن کے کراک گورنریٹ میں ایک یونانی آرتھوڈوکس چرچ کے احاطے میں جنازے کے دوران مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم سات افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ اردنی حکام کے مطابق حملہ حمود گاؤں میں ہوا، جہاں مسلح افراد ایک گاڑی سے اترے اور چرچ کے احاطے اور جنازے میں شریک لوگوں کی جانب فائرنگ شروع کردی۔
اردن کے پبلک سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ نے واقعے کو دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔ ابتدائی سرکاری اعداد میں ہلاکتوں کی تعداد چھ بتائی گئی تھی، تاہم بعد میں ڈائریکٹر پبلک سکیورٹی میجر جنرل عبداللہ المعایطہ نے بتایا کہ تعداد سات ہوگئی ہے۔ مختلف سرکاری اور بین الاقوامی رپورٹس میں زخمیوں کی تعداد 34 سے 40 تک بتائی گئی، اس لیے حتمی اعداد طبی اور سرکاری اپ ڈیٹس کے ساتھ تبدیل ہوسکتے ہیں۔
ریاستی ٹیلی وژن پر نشر ہونے والی فوٹیج میں متعدد مسلح افراد کو چرچ کے قریب فائرنگ کرتے دیکھا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ کئی منٹ جاری رہا اور اس وقت چرچ اور اس کے اطراف بڑی تعداد میں لوگ جنازے کے لیے موجود تھے۔ حکام نے فوری طور پر حملہ آوروں کی شناخت، تعداد یا کسی تنظیم سے وابستگی کی حتمی تصدیق نہیں کی اور کسی گروہ نے فوری طور پر ذمہ داری قبول نہیں کی۔
شاہ عبداللہ دوم نے واقعے کے بعد کراک کا دورہ کیا اور حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا عزم ظاہر کیا۔ وزیراعظم جعفر حسن نے بھی واقعے کو انتہاپسند اور دہشت گردانہ نظریے سے منسلک قرار دیا۔ تاہم تفتیش مکمل ہونے تک حملہ آوروں کے ممکنہ نیٹ ورک یا محرک کے بارے میں غیر مصدقہ دعوؤں کو ثابت شدہ حقیقت نہیں سمجھا جاسکتا۔
اردن میں مسیحی برادری آبادی کا ایک چھوٹا مگر تاریخی حصہ ہے اور ملک میں اس نوعیت کے بڑے حملے نسبتاً کم ہوتے ہیں۔ کراک ماضی میں بھی شدت پسند حملوں کا سامنا کرچکا ہے، جس کے باعث تازہ واقعے کے بعد حساس مقامات اور مذہبی عبادت گاہوں کی سکیورٹی بڑھانے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
پاکستان نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اردن کی حکومت اور عوام، بالخصوص متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے دہشت گردی کی تمام شکلوں کی مذمت دہراتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش ظاہر کی۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور حملہ آوروں کی شناخت و گرفتاری سے متعلق مزید سرکاری معلومات کا انتظار ہے۔

