عمان: اردن کے جنوبی صوبے کرک میں ایک یونانی آرتھوڈوکس چرچ کے احاطے میں مسلح افراد کی فائرنگ سے کم از کم سات افراد ہلاک اور 34 زخمی ہو گئے ہیں۔ اردنی حکام کے مطابق حملہ گاؤں حمود میں اس وقت ہوا جب چرچ میں جنازے کی تقریب جاری تھی اور بڑی تعداد میں لوگ احاطے اور اس کے اطراف موجود تھے۔

پبلک سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے مطابق حملہ آور ایک گاڑی میں آئے اور چرچ کے احاطے میں فائرنگ شروع کر دی۔ ایک عینی شاہد نے سرکاری نشریاتی ادارے المملکہ کو بتایا کہ فائرنگ تقریباً پانچ منٹ تک جاری رہی اور اس وقت چرچ کے اندر اور باہر 150 سے 200 افراد موجود تھے۔ حکام نے ابتدائی طور پر چھ ہلاکتیں بتائی تھیں، تاہم بعد میں پبلک سکیورٹی کے ڈائریکٹر میجر جنرل عبداللہ المعایطہ نے ہلاکتوں کی تعداد سات اور زخمیوں کی تعداد 34 بتائی۔

حکام کے مطابق زخمیوں میں سے 27 افراد بدستور زیر علاج تھے۔ سکیورٹی اداروں نے حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے تلاش شروع کر دی ہے۔ وزیر داخلہ مازن الفراية نے حملہ آوروں کو انتہا پسند قرار دیا، تاہم کہا کہ اس مرحلے پر کسی معروف تنظیم سے ان کے تعلق کے بارے میں نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہے۔ اس لیے حملے کی ذمہ داری کسی مخصوص گروہ پر عائد نہیں کی گئی۔

اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے حملے کے بعد کرک کا دورہ کیا اور کہا کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اردنی وزیراعظم نے بھی حملے کو دہشت گردانہ اور انتہا پسند سوچ کا نتیجہ قرار دیا۔ کرک میں مسیحی آبادی کی قابل ذکر موجودگی ہے اور مسلم اکثریتی اردن میں اس نوعیت کا حملہ غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے۔

سکیورٹی فورسز کی تحقیقات میں اب حملہ آوروں کی شناخت، محرکات، ممکنہ سہولت کاروں اور کسی تنظیمی تعلق کا تعین ہونا باقی ہے۔ دستیاب معلومات سرکاری بیانات، عینی شاہدین اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹنگ پر مبنی ہیں؛ جب تک تفتیش مکمل نہیں ہوتی، حملے کے پس منظر سے متعلق غیر مصدقہ دعوؤں کو حتمی حقیقت نہیں سمجھا جا سکتا۔