کراچی: شہر میں آٹے کی مختلف اقسام کی قیمتوں میں اضافے نے پہلے سے مہنگائی کا سامنا کرنے والے صارفین کے لیے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ ڈان کی آٹھ اکتوبر کی مارکیٹ رپورٹ کے مطابق فلور ملرز نے گزشتہ تین دنوں کے دوران مختلف اقسام کے آٹے کی مل قیمتیں اوسطاً چودہ روپے فی کلو بڑھا دی ہیں۔ یہ اضافہ ایسے وقت ہوا جب ستمبر کے آخری ہفتے میں بعض اقسام کی قیمتوں میں تین روپے فی کلو کمی کی گئی تھی، مگر بازار کی سطح پر صارفین کو اس کمی کا واضح فائدہ نہیں پہنچا تھا۔

رپورٹ میں ملرز کی جانب سے جاری کردہ نئی قیمتوں کے مطابق آٹا نمبر ڈھائی 155 روپے، میدہ 167 روپے اور فائن آٹا 170 روپے فی کلو مقرر ہوا۔ خوردہ دکانوں پر یہی نرخ مزید بلند ہیں: آٹا نمبر ڈھائی 180 روپے، فائن آٹا 200 روپے اور چکی آٹا 210 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔ مختلف علاقوں اور دکانوں کے درمیان فرق ممکن ہے، اس لیے ان اعداد کو شہر کی ہر دکان کی یکساں سرکاری قیمت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

بعض دکانداروں نے الزام لگایا کہ ملوں سے سپلائی رکنے کے باعث دکانوں میں آٹے کی قلت ہوئی اور بعد میں نئی بلند قیمتیں سامنے آئیں۔ یہ دکانداروں کا دعویٰ ہے؛ دستیاب رپورٹ میں کسی بااختیار تحقیق کے ذریعے ملرز کی جانب سے جان بوجھ کر رسد روکنے کا حتمی نتیجہ پیش نہیں کیا گیا۔ دوسری طرف ایک فلور ملر کے مطابق کھلی منڈی میں گندم کی قیمت تقریباً 125 سے 130 روپے فی کلو کی سابقہ سطح سے بڑھ کر 138 روپے تک پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ میں روٹی، نان اور دیگر تندوری مصنوعات کی قیمتوں پر پڑنے والے اثرات بھی بیان کیے گئے ہیں۔ نان کی قیمت بعض مقامات پر پانچ روپے بڑھ کر 30 سے 35 روپے ہو گئی ہے۔ تندور مالکان کا کہنا ہے کہ آٹے کے ساتھ مائع پیٹرولیم گیس کے بڑھتے اخراجات بھی دباؤ کا سبب ہیں؛ ان کے مطابق گیس 400 سے 420 روپے فی کلو کے درمیان فروخت ہو رہی ہے۔ بعض مالکان نے خبردار کیا کہ لاگت برقرار رہنے کی صورت میں روٹی کی قیمت میں مزید اضافہ ممکن ہے، تاہم یہ مستقبل کا خدشہ ہے، کوئی نافذ شدہ نیا نرخ نہیں۔

غذائی اشیا کی قیمتوں میں مسلسل تبدیلی گھرانوں کے ماہانہ بجٹ اور کم آمدنی والے طبقے کی خریداری کو براہ راست متاثر کر سکتی ہے۔ بازار کی موجودہ رپورٹ قیمتوں میں اضافے کو ظاہر کرتی ہے، لیکن قیمتوں کے تعین میں ممکنہ بے ضابطگیوں کا فیصلہ متعلقہ حکام کی تحقیقات اور شواہد کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے۔