کراچی: سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے ملیر 15 میں واقع ابن حسن اسپتال کو طبی غفلت کے الزامات پر سیل کر دیا ہے، جہاں ایک شیر خوار بچے میں ایم پاکس انفیکشن کی تصدیق کے بعد تحقیقات کی گئی تھیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ بچے کے ختنہ کے دوران مبینہ طور پر آلودہ قینچی استعمال کیے جانے سے انفیکشن منتقل ہونے کا شبہ سامنے آیا۔

صحت کے حکام نے واقعے کے بعد اسپتال کے طریقہ کار، انفیکشن کنٹرول اور طبی آلات کی صفائی سے متعلق انتظامات کا جائزہ لیا۔ کمیشن کی کارروائی انتظامی نوعیت کی ہے اور اس کا مقصد مریضوں کی حفاظت سے متعلق قواعد پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔ دستیاب رپورٹ میں آلودہ قینچی کو انفیکشن کی مبینہ وجہ بتایا گیا ہے، تاہم کسی فرد کی فوجداری ذمہ داری یا حتمی قانونی قصور کا تعین الگ تفتیش اور متعلقہ قانونی کارروائی سے ہوگا۔

ایم پاکس ایک وائرل بیماری ہے جو متاثرہ شخص، آلودہ مواد یا بعض حالات میں قریبی جسمانی رابطے کے ذریعے منتقل ہو سکتی ہے۔ طبی مراکز میں آلات کی مناسب جراثیم کشی اور انفیکشن کنٹرول کے معیارات اس طرح کی منتقلی کے خطرے کو کم کرنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ شیر خوار بچوں میں کسی بھی وائرل انفیکشن کی صورت میں فوری طبی نگرانی اور مناسب علاج ضروری ہوتا ہے۔

اس واقعے نے نجی طبی مراکز میں چھوٹے جراحی طریقہ کار، آلات کی جراثیم کشی اور مریضوں کی حفاظت کے نظام پر توجہ بڑھا دی ہے۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن صوبے میں صحت کے اداروں کی رجسٹریشن، معیار اور شکایات سے متعلق نگرانی کا ذمہ دار ادارہ ہے اور قواعد کی خلاف ورزی کی صورت میں انتظامی کارروائی کر سکتا ہے۔

اسپتال سیل کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ متعلقہ ادارے نے فوری حفاظتی اقدام کیا ہے، تاہم واقعے کے تمام طبی اور قانونی پہلوؤں کی حتمی تصویر تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔ متاثرہ بچے کی شناخت اور نجی طبی معلومات کو عام نہیں کیا گیا، اور رپورٹ میں توجہ اسپتال کے مبینہ انفیکشن کنٹرول کی ناکامی اور ریگولیٹری کارروائی پر مرکوز ہے۔