وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کو جعلی قرار دیا ہے جس میں وزیر دفاع خواجہ آصف سے پاکستان اور بھارت کی ترقی کا تقابل کرنے والا بیان منسوب کیا گیا تھا۔ ڈان کی براہ راست دیکھی گئی رپورٹ کے مطابق وزارت نے کہا کہ ویڈیو میں موجود آواز مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی گئی اور مسلم لیگ ن کے رہنما نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔ یہ نتیجہ وزارت اطلاعات کے باضابطہ مؤقف کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تقریباً ایک منٹ کی کلپ بظاہر ایک بڑے ٹی وی چینل کی پریس کانفرنس کی ویڈیو سے بنائی گئی تھی۔ اس میں خواجہ آصف سے ملک کی سیاسی اور معاشی صورت حال، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر کے بارے میں جملے منسوب کیے گئے، پھر پاکستان کی پیش رفت کا بھارت سے تقابل دکھایا گیا۔ ڈان نے ان جملوں کو صرف مبینہ ویڈیو کے مواد کے طور پر نقل کیا؛ انہیں وزیر دفاع کا حقیقی یا تصدیق شدہ بیان قرار نہیں دیا۔

وزارت اطلاعات نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر کلپ شیئر کرتے ہوئے اسے جعلی کہا، آواز کو اے آئی سے تیار کردہ قرار دیا اور عوام سے کہا کہ خبر آگے بڑھانے سے پہلے سرکاری ذرائع سے تصدیق کریں۔ یہی وضاحت وزارت کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ نے بھی جاری کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کلپ کو بعض بھارتی ذرائع ابلاغ نے بھی خواجہ آصف کے مبینہ بیان کے طور پر اٹھایا، جس سے غلط نسبت کے پھیلاؤ کا دائرہ بڑھا۔

مصنوعی ذہانت سے بننے والی آواز یا ایڈیٹ شدہ ویڈیو کا خطرہ یہ ہے کہ اصل منظر، چہرے کے تاثرات اور کسی معروف نشریاتی فریم کو برقرار رکھ کر نئی آواز شامل کی جا سکتی ہے۔ صرف ویڈیو کا مانوس پس منظر، مقرر کی ظاہری موجودگی یا سوشل میڈیا پر زیادہ شیئر ہونا صداقت کی ضمانت نہیں بنتا۔ ایسی صورت میں مکمل اصل ویڈیو، سرکاری ریکارڈ، معتبر خبررساں ادارے کی رپورٹ اور آواز و ہونٹوں کی مطابقت جیسے شواہد دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔

اس خبر میں کسی شخص کو جعلی کلپ بنانے یا پھیلانے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا، کیونکہ ڈان کی رپورٹ میں تخلیق کار کی شناخت یا تحقیقات کا نتیجہ موجود نہیں۔ وزارت کے بیان سے صرف یہ دعویٰ سامنے آتا ہے کہ منسوب آواز مصنوعی ہے اور وزیر دفاع نے یہ بیان نہیں دیا۔ اگر کسی تفتیشی ادارے کی باضابطہ کارروائی یا تکنیکی فرانزک رپورٹ جاری ہوئی تو وہ الگ قابل تصدیق پیش رفت ہوگی۔

اردو ہیڈ لائنز قارئین کو یاد دلاتا ہے کہ سیاسی شخصیات سے منسوب سنسنی خیز آڈیو یا ویڈیو کو اصل ماخذ دیکھے بغیر آگے نہ بڑھایا جائے۔ موجودہ رپورٹ کا درست خلاصہ یہی ہے کہ وزارت اطلاعات نے ویڈیو کی تردید کی ہے؛ کلپ کے مبینہ الفاظ کو خواجہ آصف کا تصدیق شدہ مؤقف نہیں سمجھا جا سکتا۔

— اردو ہیڈ لائنز ڈیسک