پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کی پہلی جامع ٹرانسپورٹ پالیسی 2026 کا مسودہ تیار کر لیا ہے، جسے صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد باضابطہ طور پر نافذ کیا جائے گا۔ مجوزہ پالیسی پر پشاور میں ایک مشاورتی اجلاس کے دوران بحث کی گئی، جس میں ٹرانسپورٹ، ماس ٹرانزٹ، شہری نقل و حرکت اور متعلقہ سرکاری اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ حکومت کے مطابق پالیسی کا بنیادی مقصد صوبے میں محفوظ، قابلِ رسائی، مؤثر اور پائیدار ٹرانسپورٹ نظام کے لیے واضح سمت متعین کرنا ہے۔
وزیراعلیٰ کے معاونِ خصوصی برائے ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ سمیع اللہ خان نے اجلاس میں کہا کہ مسودہ صوبے کے ٹرانسپورٹ شعبے کے دیرینہ مسائل سے نمٹنے اور عوامی خدمات بہتر بنانے کے لیے ایک بنیادی فریم ورک فراہم کرے گا۔ اجلاس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ محمد زبیر، خیبر پختونخوا اربن موبیلٹی اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر افتخار احمد، ٹرانس پشاور کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر سید مرتضیٰ اصغر بخاری، صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔
مجوزہ پالیسی میں سڑک حادثات میں کمی، مناسب اور قابلِ برداشت سفری سہولیات، مختلف ذرائع نقل و حمل کے درمیان بہتر رابطہ اور خواتین، معذور افراد اور کم سہولت یافتہ آبادیوں کے لیے زیادہ جامع نظام کو ترجیح دی گئی ہے۔ مال برداری، لاجسٹکس اور تجارت کے لیے جدید بنیادی ڈھانچے، علاقائی تجارتی راستوں، ڈیجیٹل نظام، شفاف حکمرانی اور مؤثر نگرانی کو بھی پالیسی کے اہم اجزا میں شامل بتایا گیا ہے۔ ان نکات کی عملی شکل کابینہ سے منظور ہونے والے حتمی متن اور بعد میں جاری ہونے والے نفاذی منصوبوں سے واضح ہوگی۔
صوبائی حکومت نے اس وسیع پالیسی عمل کے ساتھ چند الگ منصوبوں پر کام جاری ہونے کا بھی بتایا ہے۔ سمیع اللہ خان کے مطابق وزارتِ ریلوے کے تعاون سے سرکلر ریلوے منصوبے، خواتین اور طالبات کے لیے برقی موٹر سائیکلوں اور صوبے میں گرین ٹرانسپورٹ کے فروغ پر کام ہو رہا ہے۔ پشاور میں برقی بائیک اقدام کی تیاری مکمل ہونے اور بعد میں اسے دیگر علاقوں تک توسیع دینے کا ارادہ بھی ظاہر کیا گیا۔ یہ اعلانات منصوبہ بندی اور تیاری کی موجودہ کیفیت بیان کرتے ہیں؛ ان میں سے ہر منصوبے کی لاگت، اہلیت، تعداد اور آغاز کی الگ حتمی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔
حکام کے مطابق پشاور کے لیے ٹرانسپورٹ ماسٹر پلان تیار کیا جا رہا ہے، جبکہ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کی فزیبلٹی اسٹڈیز میں گرین انرجی پر مبنی نقل و حمل کے امکانات شامل کیے جائیں گے۔ سیکریٹری ٹرانسپورٹ نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر پالیسی سازی کا کام مکمل کیا گیا ہے اور برقی گاڑیوں کے لیے الگ پالیسی پر بھی کام کیا جائے گا۔ مشاورتی اجلاس میں اسٹیک ہولڈرز کی سفارشات کی روشنی میں مسودے کو مزید بہتر بنانے کا عندیہ دیا گیا۔
موجودہ پیش رفت کو حتمی نافذ شدہ پالیسی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ پہلے صوبائی کابینہ کی منظوری درکار ہے، جس کے بعد اہداف، ذمہ دار اداروں، قانونی یا ضابطہ جاتی تبدیلیوں، مالی وسائل، منصوبہ وار مدت اور کارکردگی ناپنے کے پیمانے طے کیے جائیں گے۔ پالیسی کی کامیابی کا عملی معیار یہ ہوگا کہ آیا اس کے نتیجے میں حادثات کم ہوتے ہیں، دیہی اور شہری رابطہ بہتر ہوتا ہے، عوامی ٹرانسپورٹ قابلِ برداشت رہتی ہے اور خواتین و معذور افراد کے لیے حقیقی سفری رکاوٹیں دور ہوتی ہیں۔




