سیول: جنوبی کوریا کی نیشنل انٹیلی جنس سروس نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بیٹی کم جو اے کے بارے میں اس کا موجودہ جائزہ یہ ہے کہ انہیں ممکنہ جانشین کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے اور ان کا ایک چھوٹا بہن بھائی بھی ہو سکتا ہے، جس کی جنس کے بارے میں معلومات واضح نہیں۔

جنوبی کوریا کے خفیہ ادارے نے 10 ستمبر کو جاری بیان میں کہا کہ وہ کم خاندان کی ساخت سے متعلق معلومات کی مسلسل جانچ کر رہا ہے۔ ادارہ پہلے بھی یہ کہہ چکا ہے کہ کم جونگ اُن کے ممکنہ طور پر تین بچے ہیں، تاہم ان کی پیدائش کی ترتیب اور دیگر تفصیلات کے بارے میں غیر یقینی پائی جاتی رہی ہے۔ این آئی ایس کے مطابق یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا کم جو اے کا کوئی بڑا بھائی موجود ہے؛ ادارے کا موجودہ اندازہ ہے کہ اگر ایسا بھائی موجود بھی ہے تو وہ جانشینی کی پوزیشن میں نہیں۔

کم جو اے پہلی بار 2022 میں عوامی طور پر نمایاں ہوئیں، جب وہ اپنے والد کے ساتھ ایک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے تجربے کے موقع پر نظر آئیں۔ اس کے بعد وہ متعدد اہم سیاسی، عسکری اور سرکاری تقریبات میں کم جونگ اُن کے ساتھ دکھائی دیتی رہی ہیں، جس سے ان کے ممکنہ مستقبل کے کردار کے بارے میں قیاس آرائیاں بڑھی ہیں۔

شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے کم جو اے کے لیے ایسے اعزازی الفاظ بھی استعمال کیے ہیں جو ماضی میں اعلیٰ قیادت یا جانشینی سے وابستہ شخصیات کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ تاہم پیانگ یانگ نے باضابطہ طور پر انہیں مستقبل کی رہنما یا نامزد جانشین قرار نہیں دیا۔ اسی لیے جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس کا بیان ایک خفیہ معلوماتی جائزہ ہے، حتمی طور پر تصدیق شدہ خاندانی یا آئینی اعلان نہیں۔

کم خاندان کئی دہائیوں سے شمالی کوریا کی قیادت کرتا آ رہا ہے اور اقتدار کی منتقلی تاریخی طور پر اسی خاندان کے اندر ہوئی ہے۔ کم جونگ اُن نے 2011 میں اپنے والد کم جونگ اِل کے انتقال کے بعد اقتدار سنبھالا تھا۔ موجودہ قیادت میں جانشینی کا سوال اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کہ شمالی کوریا ایک جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست ہے اور اس کی سیاسی قیادت سے متعلق معلومات انتہائی محدود رہتی ہیں۔

جنوبی کوریا کے ادارے کے تازہ جائزے کے باوجود کم جو اے کے ممکنہ چھوٹے بہن بھائی، کسی بڑے بھائی کی موجودگی اور مستقبل کی جانشینی کے بارے میں آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔ ان نکات کو انٹیلی جنس اندازوں کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ شمالی کوریا کی جانب سے تصدیق شدہ حقائق کے طور پر۔