ڈلاس: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کے وسط مدتی انتخابی کنونشن میں اعلان کیا ہے کہ اگر ان کی جماعت نومبر 2026 کے انتخابات کے بعد کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتی ہے تو ہر امریکی بالغ کو 5 ہزار ڈالر کا ایک مرتبہ کا ’ٹرمپ ڈیویڈنڈ‘ دیا جائے گا۔ رائٹرز کے مطابق صدر نے اس تجویز کے مالی یا قانونی طریقہ کار کی فوری تفصیل نہیں بتائی۔
امریکا میں تقریباً 27 کروڑ بالغ افراد کی آبادی کو بنیاد بنایا جائے تو اس وعدے کی مجموعی لاگت تقریباً 1.35 ٹریلین ڈالر بنتی ہے۔ اس لیے کسی بھی عملی ادائیگی کے لیے فنڈنگ، کانگریس کی منظوری اور متعلقہ قانونی اختیار جیسے بنیادی سوالات حل کرنا ہوں گے۔ رپورٹ میں یہ واضح نہیں تھا کہ وائٹ ہاؤس یا ریپبلکن قیادت نے اس اعلان سے پہلے کوئی تفصیلی قانون سازی یا بجٹ منصوبہ تیار کیا ہے۔
ٹرمپ نے یہ اعلان ڈلاس میں ریپبلکن پارٹی کے پہلے وسط مدتی کنونشن کے دوران ایک گھنٹے کی پرائم ٹائم تقریر میں کیا۔ 3 نومبر کے انتخابات سے قبل ریپبلکنز کو ایوان نمائندگان یا سینیٹ میں اپنا کنٹرول کھونے کا خطرہ درپیش ہے، جبکہ رائے عامہ کے جائزوں میں مہنگائی، زندگی گزارنے کی لاگت اور ایران جنگ ووٹرز کے اہم خدشات میں شامل ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ انتخاب میں انہیں عملی طور پر بیلٹ پر موجود سمجھ کر ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کریں۔
کنونشن میں پارٹی کی انتخابی حکمت عملی بڑی حد تک صدر ٹرمپ کے گرد مرکوز رہی۔ بعض مشکل مقابلوں میں حصہ لینے والے ریپبلکن امیدواروں کے لیے یہ حکمت عملی دوہرا چیلنج رکھتی ہے: انہیں پارٹی کے پرجوش ٹرمپ حامی ووٹروں کو متحرک بھی رکھنا ہے اور ان آزاد یا غیر یقینی ووٹروں تک بھی پہنچنا ہے جو حالیہ سرویز میں حکومت سے ناراض دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ نمایاں ریپبلکن امیدوار کنونشن میں شریک نہیں ہوئے، جبکہ کئی مسابقتی حلقوں کے امیدواروں نے تقریریں کیں۔
ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی جنگی فیصلے کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا تھا۔ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش سے انکار کرتا ہے، جبکہ تجزیہ کاروں کے مطابق اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ 5 ہزار ڈالر کی ادائیگی فی الحال ایک انتخابی وعدہ ہے، منظور شدہ سرکاری پروگرام نہیں؛ اس کی قانونی حیثیت، مالی وسائل اور نفاذ کا طریقہ سامنے آنے تک اسے یقینی ادائیگی نہیں سمجھا جا سکتا۔




