اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور وزارت قومی ورثہ کو شکرپڑیاں میں مجوزہ نیشنل میوزیم آف پاکستان کے لیے زمین کی منتقلی کا دیرینہ مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کمیٹی نے خبردار کیا کہ مزید تاخیر کی صورت میں 6.790 ملین ڈالر کی کوریائی گرانٹ اِن ایڈ ضائع ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
کمیٹی کا اجلاس سینیٹر ہدایت اللہ خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز میں ہوا۔ ارکان نے منصوبے کے لیے زمین کی منتقلی میں پیش رفت نہ ہونے پر تشویش ظاہر کی اور متعلقہ اداروں سے واضح ٹائم لائن اور عملی اقدامات کا مطالبہ کیا۔ مجوزہ میوزیم اسلام آباد کے شکرپڑیاں علاقے میں قائم کیا جانا ہے۔
اجلاس میں سی ڈی اے کے سینئر حکام، بشمول چیئرمین، کی عدم شرکت پر بھی ناراضی کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کے چیئرمین نے ہدایت کی کہ وزارت داخلہ کو اس معاملے پر کمیٹی کے تحفظات سے آگاہ کیا جائے اور پارلیمانی کمیٹیوں کے سامنے متعلقہ اداروں کی جواب دہی یقینی بنائی جائے۔
کوریائی گرانٹ منصوبے کے لیے اہم بیرونی مالی معاونت ہے، لیکن گرانٹ کے استعمال کے لیے زمین اور انتظامی تیاری جیسے بنیادی مراحل مکمل ہونا ضروری ہیں۔ اگر مقررہ شرائط یا مدت میں پیش رفت نہ ہو تو مالی تعاون کے متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ گرانٹ بالفعل منسوخ ہو چکی ہے؛ خطرہ تاخیر جاری رہنے سے متعلق ہے۔
نیشنل میوزیم کے منصوبے کا مقصد پاکستان کے تاریخی، ثقافتی اور آثار قدیمہ کے ورثے کے لیے ایک جدید قومی ادارہ قائم کرنا ہے۔ زمین کی ملکیت اور منتقلی جیسے انتظامی معاملات حل نہ ہونے سے تعمیراتی منصوبہ بندی، ڈیزائن اور فنڈز کے استعمال کا شیڈول متاثر ہو سکتا ہے۔
سینیٹ کمیٹی کی تازہ ہدایت کے بعد توجہ سی ڈی اے اور وزارت قومی ورثہ کے درمیان فوری رابطے پر مرکوز ہوگی۔ اگلی پیش رفت سے واضح ہوگا کہ زمین کی منتقلی بروقت مکمل ہوتی ہے اور کوریائی مالی تعاون کو منصوبے کے لیے محفوظ رکھا جا سکتا ہے یا نہیں۔




