اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے مالیت کا ترقیاتی اور سکیورٹی پیکیج حتمی کر لیا ہے۔ انہوں نے 4 نومبر کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت، مسلح افواج اور صوبائی انتظامی ڈھانچے کے درمیان تعاون جاری رکھا جائے گا۔
ریڈیو پاکستان کی سرکاری رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے کابینہ کو بتایا کہ حکومت خیبر پختونخوا میں امن کی بحالی اور عوامی فلاح کے لیے مالی اور انتظامی اقدامات کو یکجا کر رہی ہے۔ 160 ارب روپے کے پیکیج کو ترقیاتی ضروریات اور سکیورٹی چیلنجز دونوں سے جوڑا گیا ہے۔ رپورٹ میں پیکیج کی ہر مد کی تفصیلی تقسیم جاری نہیں کی گئی، اس لیے اس مرحلے پر اس کی مخصوص اسکیموں یا اخراجات کے بارے میں مزید دعویٰ کرنا درست نہیں ہوگا۔
کابینہ اجلاس میں خیبر پختونخوا کی موجودہ انتظامی صورت حال سے متعلق بھی فیصلہ کیا گیا۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق صوبے میں ایمرجنسی کی مدت کے دوران روزمرہ انتظامی امور کے لیے وزیراعلیٰ کو تفویض اختیارات گورنر کو منتقل کرنے کی منظوری دی گئی۔ گورنر کو ان اختیارات کے استعمال کے بارے میں وفاقی کابینہ کو ماہانہ جائزہ رپورٹ پیش کرنا ہوگی۔ کابینہ نے توقع ظاہر کی کہ گورنر کی سربراہی میں خیبر پختونخوا ایڈوائزری کونسل عوامی فلاح، خوشحالی اور امن و امان کی بحالی کے لیے اقدامات کرے گی۔
وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن کا قیام قومی ترجیح ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 160 ارب روپے کا پیکیج اسی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ بتایا گیا ہے۔ پیکیج کے عملی نفاذ، فنڈز کی تقسیم اور منصوبہ وار تفصیلات سامنے آنے پر ہی اس کے ترقیاتی اور سکیورٹی اثرات کا مکمل جائزہ ممکن ہوگا۔
