پشاور: خیبرپختونخوا کے ان 12 اضلاع میں، جہاں 11 اکتوبر کو ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی، حکام نے مقامی سطح پر ایک امن عمل شروع کیا ہے جس کے تحت قبائلی عمائدین اور جرگوں کی مدد سے مسلح گروہوں کو رضاکارانہ طور پر علاقے چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ایکسپریس ٹریبیون کی 27 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق یہ ذمہ داری 48 رکنی ایریا ریپریزنٹیٹوز اینڈ ڈیویلپمنٹ کونسل، اے آر ڈی سی، کو دی گئی ہے۔

اے آر ڈی سی کے چیئرمین اور سابق گورنر خیبرپختونخوا شوکت اللہ خان نے اخبار کو بتایا کہ کونسل کے ارکان اپنے اپنے علاقوں میں قبائلی روایات کے مطابق رابطے شروع کریں گے۔ ان کے مطابق مقامی جرگوں، قبائلی عمائدین اور آبادی کی حمایت حاصل کر کے مسلح گروہوں سے بات چیت کی جائے گی تاکہ وہ رضاکارانہ طور پر ان علاقوں سے نکل جائیں۔ گورنر کے مشیر اطلاعات محمود جان بابر نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کی۔

یہ اقدام صوبے میں نافذ ایمرجنسی کے سکیورٹی تناظر میں سامنے آیا ہے۔ تاہم مذاکرات شروع کرنے کی ذمہ داری دیے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی مسلح گروہ نے انخلا پر رضامندی ظاہر کر دی ہے یا امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ فی الحال یہ ایک حکومتی و مقامی رابطہ کاری کا عمل ہے، جس کے نتائج متعلقہ اضلاع میں ہونے والی بات چیت پر منحصر ہوں گے۔

قبائلی اضلاع اور ملحقہ علاقوں میں جرگہ روایتی طور پر مقامی تنازعات اور اجتماعی فیصلوں میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔ موجودہ منصوبے میں اسی مقامی سماجی ڈھانچے کو استعمال کرتے ہوئے سکیورٹی مسئلے کا غیر فوجی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود ریاستی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داریاں اور انسداد دہشت گردی کے قانونی تقاضے اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔

رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مذاکرات کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر کی گئی ہے یا مسلح افراد کے رضاکارانہ انخلا کی صورت میں ان کے لیے کیا قانونی یا انتظامی طریقہ کار ہوگا۔ اس لیے ایسے کسی نتیجے کے بارے میں قیاس آرائی مناسب نہیں ہوگی۔ اگلی اہم پیش رفت کونسل کی ضلعی سطح کی سرگرمیوں اور صوبائی انتظامیہ کی باضابطہ وضاحت سے سامنے آئے گی۔

خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال حالیہ مہینوں میں قومی سیاسی اور سکیورٹی مباحث کا مرکزی موضوع رہی ہے۔ 48 رکنی کونسل کو دی گئی نئی ذمہ داری اس وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جس میں مقامی نمائندوں کو شامل کر کے مسلح گروہوں کی موجودگی کم کرنے اور متاثرہ علاقوں میں معمولات بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔