پشاور: خیبر پختونخوا میں ڈینگی کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 99 نئے مریض سامنے آنے کے بعد رواں سال صوبے میں رپورٹ ہونے والے کیسز کی مجموعی تعداد 4,091 ہوگئی ہے۔ ڈان کے مطابق یہ 2026 میں ایک دن کے دوران رپورٹ ہونے والی سب سے زیادہ تعداد ہے، جبکہ اکتوبر کو ڈینگی کے پھیلاؤ کے حوالے سے زیادہ خطرے والا مہینہ قرار دیا جا رہا ہے۔

Integrated Disease Surveillance and Response System کی رپورٹ کے مطابق کوہاٹ 2,567 کیسز کے ساتھ سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے۔ پشاور میں 566، بنوں میں 192، خیبر میں 120، ہری پور میں 112، چارسدہ میں 75 اور ایبٹ آباد میں 71 کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔ دیگر اضلاع میں بھی مختلف تعداد میں مریض سامنے آئے ہیں۔

حالیہ عرصے میں ٹانک سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی ڈیرہ اسماعیل خان میں ڈینگی سے موت بھی رپورٹ ہوئی ہے۔ صوبائی اعداد کے مطابق اس وقت 144 مریض فعال کیسز میں شمار کیے جا رہے ہیں جبکہ 3,946 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق صورتحال گزشتہ سال کے مقابلے میں مجموعی طور پر بہتر ہے، تاہم کوہاٹ میں غیر معمولی اضافہ تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔

محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں، خصوصاً کوہاٹ میں ڈینگی کی روک تھام اور کنٹرول کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ صرف مریضوں کی تشخیص اور علاج کافی نہیں؛ مچھروں کی افزائش روکنے کے لیے کھڑا پانی ختم کرنے، اسپرے، صفائی اور ضلعی سطح پر مختلف سرکاری اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کی ضرورت ہے۔

صحت کے ماہرین نے آنے والے ہفتوں کو اہم قرار دیا ہے کیونکہ موسم اور پانی جمع ہونے کی صورتحال مچھروں کی افزائش کے لیے سازگار رہ سکتی ہے۔ صوبائی حکومت ہر سال ڈینگی ایکشن پلان جاری کرتی ہے اور 2026 کا منصوبہ بھی سال کے آغاز میں نافذ کیا گیا تھا، لیکن بعض اضلاع میں حالیہ اضافے نے مقامی سطح پر نگرانی اور مشترکہ کارروائی مزید مضبوط کرنے کی ضرورت اجاگر کی ہے۔