راولپنڈی: راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کی منظور شدہ تعمیراتی لاگت ایک بار پھر بڑھ کر 50.4 ارب روپے ہو گئی ہے، جبکہ سڑک کے ٹول پلازوں اور متعلقہ الیکٹرانک نظام کا کام تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔ متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ 38.3 کلومیٹر طویل سڑک کو نومبر کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں ٹریفک کے لیے کھولنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ڈان کے مطابق پنجاب کی صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے گزشتہ ہفتے لاہور میں ہونے والے اجلاس میں منصوبے کے تیسرے نظرثانی شدہ پی سی ون کی 50.4 ارب روپے لاگت کی منظوری دی۔ حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس منظوری کے بعد منصوبے کی لاگت مزید نہیں بڑھے گی۔ تاہم زمین کے حصول پر خرچ ہونے والے 6.7 ارب روپے اس تعمیراتی لاگت میں شامل نہیں ہیں۔ اگر زمین کی قیمت بھی شامل کی جائے تو مجموعی مالی حجم تقریباً 57 ارب روپے بنتا ہے۔
منصوبے کے لیے 8,992 کنال زمین حاصل کی گئی ہے۔ رواں سال جنوری میں راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے دوسرے نظرثانی شدہ پی سی ون میں لاگت 51 ارب روپے کرنے کی درخواست کی تھی، لیکن صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے 47 ارب روپے کی منظوری دی اور سابق 33 ارب روپے سے لاگت میں اضافے پر متعدد اعتراضات اٹھائے تھے۔ بعد ازاں منصوبہ دوبارہ نظرثانی کے لیے پیش کیا گیا۔
ایک انتظامی افسر کے مطابق تازہ اضافے میں ٹول پلازوں کے ڈھانچے میں تبدیلی، گزشتہ دو برس کے دوران تعمیراتی مواد کی قیمتوں میں اضافہ اور تھلیاں انٹرچینج کے پی سی ون میں تبدیلی جیسے عوامل شامل ہیں۔ حکام کے مطابق ٹول پلازوں کی ساخت پر لاگت 80 کروڑ روپے سے بڑھ کر تقریباً 1.2 ارب روپے تک پہنچی، جبکہ تعمیراتی مواد کی قیمتوں میں اضافے کا بھی منصوبے کے بجٹ پر اثر پڑا۔
رنگ روڈ کے ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر اشفاق سلہری نے ڈان کو بتایا کہ مرکزی 38.3 کلومیٹر سڑک مکمل ہو چکی ہے، تاہم ٹول پلازا بوتھس کی تعمیر جاری ہے۔ پنجاب رنگ روڈ اتھارٹی کی جانب سے انٹیلیجنٹ ٹرانسپورٹیشن سسٹم اور الیکٹرانک ٹول کلیکشن نصب کرنے میں مزید تقریباً دو ہفتے لگنے کی توقع ہے۔ بانتھ اور تھلیاں میں ٹول بوتھس کے ساتھ اتھارٹی کے دفاتر اور عملے کے لیے رہائشی سہولیات بھی قائم کی جا رہی ہیں۔
منصوبے میں چھ لین کی کنٹرولڈ ایکسس سڑک، پانچ انٹرچینج، دریاؤں پر دو پل، نالوں اور سڑکوں پر 12 پل، ایک ریلوے پل اور 11 اوور پاس شامل ہیں۔ ڈیزائن رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ بتائی گئی ہے۔ تھلیاں انٹرچینج پر کام سڑک کھلنے کے بعد شروع ہونے کی توقع ہے۔
راولپنڈی رنگ روڈ کا منصوبہ کئی برسوں سے ڈیزائن، الائنمنٹ، لاگت اور انتظامی جائزوں میں تبدیلیوں سے گزرتا رہا ہے۔ تازہ پیش رفت میں سڑک کے بنیادی حصے کی تکمیل اہم مرحلہ ہے، لیکن ٹولنگ اور ٹریفک مینجمنٹ نظام مکمل ہونے تک منصوبہ مکمل آپریشنل شکل اختیار نہیں کرے گا۔ نومبر میں مجوزہ افتتاح کی حتمی تاریخ باقی کام کی رفتار اور تکنیکی تنصیبات کی تکمیل پر منحصر ہوگی۔

