پشاور: پشاور ہائیکورٹ میں خیبرپختونخوا میں نافذ ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف دائر سات آئینی درخواستیں منگل 20 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔ عدالت کی کاز لسٹ کے مطابق سینئر پیونی جج جسٹس اعجاز انور اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کرے گا۔
درخواست گزاروں نے 11 اکتوبر کو آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت جاری صدارتی اعلان کو چیلنج کرتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی ہے۔ مرکزی درخواست پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی ہے، جبکہ تحریک تحفظ آئین پاکستان سے وابستہ رہنماؤں سمیت دیگر درخواست گزاروں نے بھی الگ درخواستیں دائر کی ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے عدالت سے اپنی درخواست میں ترمیم کی اجازت بھی طلب کی ہے تاکہ بعد میں قومی اسمبلی، سینیٹ اور پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں منظور ہونے والی قراردادوں کو چیلنج کا حصہ بنایا جا سکے۔ درخواست کے مطابق 14 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ نے الگ الگ قراردادوں کے ذریعے ایمرجنسی کے اعلان کی منظوری دی، جبکہ 15 اکتوبر کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں مزید قراردادیں منظور کی گئیں۔
درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ بعد کی پارلیمانی منظوریوں سے اصل صدارتی اعلان کو قانونی جواز دینے کی کوشش کی گئی، اس لیے ان قراردادوں کا عدالتی جائزہ بھی ضروری ہے۔ یہ درخواست گزار کا قانونی مؤقف ہے؛ ان اقدامات کی آئینی حیثیت کا حتمی فیصلہ عدالت نے ابھی نہیں کیا۔ وفاقی حکومت اور دیگر متعلقہ فریقوں کو عدالتی کارروائی میں اپنے دلائل پیش کرنے کا موقع ملے گا۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا معاملہ حالیہ دنوں میں ملک کی اہم سیاسی اور آئینی بحث بن چکا ہے۔ حکومتی حلقوں نے صوبے کی سلامتی کی صورتحال کو فیصلے کا بنیادی پس منظر قرار دیا ہے، جبکہ تحریک انصاف اور اتحادی اپوزیشن جماعتیں اقدام کی قانونی اور سیاسی بنیاد کو چیلنج کر رہی ہیں۔ عدالت میں زیر سماعت درخواستیں اسی اختلاف کو آئینی تشریح کے دائرے میں لے آئی ہیں۔
سماعت میں عدالت کے سامنے بنیادی سوالات میں صدارتی اختیار، پارلیمانی توثیق، متعلقہ آئینی دفعات کے اطلاق اور صوبائی حکمرانی پر ان اقدامات کے اثرات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم عدالت کی جانب سے کسی نتیجے یا عبوری حکم سے پہلے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ چیلنج کا انجام کیا ہوگا۔ موجودہ مرحلے پر تصدیق شدہ پیش رفت یہی ہے کہ سات درخواستیں سماعت کے لیے مقرر ہیں اور بیرسٹر گوہر نے بعد کی پارلیمانی قراردادوں کو اپنی درخواست میں شامل کرنے کی اجازت مانگی ہے۔

