لاہور: لاہور پولیس کی سینئر کمانڈ نے دھوکہ دہی اور جائیداد یا مالی معاملات میں فراڈ کی بڑھتی شکایات کے تناظر میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 420 میں ترمیم کرکے اس جرم کو ناقابلِ ضمانت بنانے کی تجویز دی ہے۔ یہ فی الحال پولیس کی تجویز ہے؛ قانون میں کوئی تبدیلی متعلقہ قانون سازی اور آئینی طریقہ کار مکمل ہونے کے بعد ہی نافذ ہو سکتی ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق پولیس حکام نے یہ تجویز ایسے پس منظر میں تیار کی ہے جب اعلیٰ عدلیہ نے متعدد مقدمات میں دفعہ 406، یعنی امانت میں خیانت، کے اطلاق سے متعلق قانونی تقاضوں پر زور دیا۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ مالی اور تجارتی تنازعات میں بعض شکایات ایسی ہوتی ہیں جن میں دھوکہ دہی کا عنصر تو سامنے آتا ہے لیکن دفعہ 406 کے لیے درکار قانونی عناصر ثابت نہیں ہوتے۔ اسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے دفعہ 420 کے تحت کارروائی کے قانونی فریم ورک کو زیادہ مؤثر بنانے کی تجویز زیر غور لائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق لاہور پولیس کے تفتیشی ونگ نے دفعہ 406 کے تحت درج 200 سے زیادہ مقدمات منسوخ کیے اور مستقبل میں ایسے معاملات کی تفتیش کے لیے نئی معیاری ہدایات جاری کی ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں پولیس کو یہ دیکھنا ہوگا کہ محض رقم واپس نہ کرنا یا کسی معاہدے کی خلاف ورزی خود بخود امانت میں خیانت کا جرم نہیں بنتی۔ دفعہ 406 کے اطلاق کے لیے یہ ثابت ہونا ضروری ہے کہ متعلقہ مال یا جائیداد کسی شخص کے سپرد کی گئی اور پھر اسے بددیانتی سے اپنے استعمال میں لایا گیا یا اعتماد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تصرف کیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق دفعہ 420 کے تحت دھوکہ دہی اور کسی شخص کو بے ایمانی سے مال یا جائیداد منتقل کرنے پر آمادہ کرنے کے معاملات آتے ہیں۔ لاہور پولیس کا خیال ہے کہ زمین، سرمایہ کاری، کاروبار اور آن لائن لین دین میں فراڈ کی شکایات بڑھنے کے بعد اس دفعہ کے موجودہ ضمانتی کردار پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں ایک وکیل کی رائے بھی شامل ہے جس کے مطابق ان کی فرم نے پنجاب حکومت کی قانونی اصلاحات کمیٹی کو اسی نوعیت کی سفارشات دی تھیں۔ یہ وکیل کی رائے ہے، حتمی قانونی فیصلہ نہیں۔
اس معاملے پر لاہور کیپٹل سٹی پولیس افسر بلال صدیق کمیانہ کی صدارت میں اجلاس ہوا جس میں تفتیشی شعبے کے سینئر افسران شریک ہوئے۔ بعد ازاں تفتیشی ونگ کی سطح پر مزید مشاورت بھی کی گئی۔ پولیس کا مقصد ایک طرف فراڈ کے متاثرین کے لیے مؤثر قانونی راستہ فراہم کرنا اور دوسری طرف ایسے مقدمات سے بچنا بتایا گیا ہے جن میں دیوانی یا معاہداتی تنازع کو غلط طور پر ناقابلِ ضمانت فوجداری جرم کی شکل دے دی جائے۔
مجوزہ تبدیلی کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ ضمانت کی نوعیت ملزم کی آزادی، تفتیش کے طریقہ کار اور مقدمے کے عملی اثرات پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔ اسی وجہ سے کسی بھی ترمیم میں متاثرین کے تحفظ کے ساتھ ملزمان کے قانونی حقوق اور غلط فوجداری کارروائی کے خطرے کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔ فی الحال لاہور پولیس کی سفارش اور نئی تفتیشی ایس او پیز دو الگ پیش رفتیں ہیں: ایس او پیز پولیس کے داخلی طریقہ کار کو متاثر کرتی ہیں، جبکہ دفعہ 420 کو ناقابلِ ضمانت بنانے کے لیے باقاعدہ قانونی ترمیم درکار ہوگی۔

