پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو چیلنج کرنے والی متعدد آئینی درخواستوں پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ جسٹس اعجاز انور اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد مزید سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی۔ عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان اور خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل کو بھی نوٹس جاری کرنے کا کہا ہے۔
درخواست گزاروں میں تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، پی ٹی آئی رہنما شاندانہ گلزار، خیبرپختونخوا بار کونسل اور تحریک تحفظ آئین پاکستان سے وابستہ رہنما شامل ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے 14 اکتوبر کو درخواست دائر کرتے ہوئے 11 اکتوبر کے وفاقی اقدام کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی تھی۔ موجودہ سماعت میں عدالت نے ان اعتراضات پر ابتدائی موقف سنا؛ ابھی کسی آئینی نکتے پر حتمی فیصلہ نہیں دیا گیا۔
بیرسٹر گوہر کی جانب سے بیرسٹر سمیر کھوسہ اور سلمان اکرم راجا پیش ہوئے۔ وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 232(1) کے تحت صوبائی اسمبلی کی منظوری ضروری تھی اور یہ منظوری اقدام سے پہلے حاصل نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے بعد میں کارروائی کی تو اسے بھی متفرق درخواست میں چیلنج کیا گیا ہے۔ یہ دلائل درخواست گزاروں کا قانونی مؤقف ہیں، جن پر حکومت اور دیگر فریقوں کا جواب آنے کے بعد عدالت غور کرے گی۔
درخواست گزاروں نے یہ بھی استدعا کی کہ صوبائی اسمبلی بحال کی جائے اور وزیراعلیٰ و اسپیکر سے متعلق صورتحال پر عدالتی حکم دیا جائے۔ وکلا نے سابق وزیراعلیٰ پیر صابر شاہ سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ایمرجنسی کی صورت میں بھی وزیراعلیٰ اور کابینہ کے کام جاری رکھنے سے متعلق آئینی اصول موجود ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت سے تعلق رکھنے والے متعدد اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو حراست میں لیا گیا اور پارٹی ارکان کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ یہ دعوے عدالتی کارروائی میں درخواست گزار کی جانب سے کیے گئے اور رپورٹ کے مطابق اس مرحلے پر عدالت نے ان کی صحت کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا۔
عدالت کی جانب سے نوٹس جاری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اب متعلقہ حکومتوں اور قانونی حکام سے باضابطہ جواب طلب کیا گیا ہے۔ اگلی سماعت میں فریقین کے جوابات اور آئینی دلائل کی روشنی میں معاملہ آگے بڑھے گا۔ 10 نومبر تک التوا کے ساتھ گورنر راج اور ایمرجنسی کی قانونی حیثیت پر عدالتی فیصلہ ابھی زیر سماعت ہے۔

