اسلام آباد: وزارتِ صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے ملک بھر میں انسولین کی وسیع قلت سے متعلق سوشل میڈیا رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ ایک مخصوص برانڈ تک محدود ہے۔ حکام کے مطابق انسولین گلو لیزین کا برانڈ اپیڈرا عالمی سپلائی کی رکاوٹ کے باعث فی الحال دستیاب نہیں، جبکہ اسی فارماکولوجیکل کلاس کے متبادل تیز اثر فارمولیشنز ملک میں موجود ہیں۔
وزارت صحت کے ترجمان ساجد شاہ نے ڈان کو بتایا کہ اپیڈرا کی عدم دستیابی بین الاقوامی سپلائی مسائل سے منسلک ہے۔ ان کے مطابق انسولین اسپارٹ، جو نوو ریپڈ کے نام سے دستیاب ہے، اور انسولین لیسپرو، جس کا برانڈ ہیومالاگ ہے، تیز اثر متبادل کے طور پر ملک بھر میں دستیاب ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بنیادی انسولین کی دوسری اقسام بھی پاکستان میں قابل رسائی ہیں۔
حکام کی وضاحت سوشل میڈیا پر پاکستان بھر میں انسولین کی قلت کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد جاری کی گئی۔ وزارت اور ڈریپ کا مؤقف ہے کہ ایک برانڈ کی عدم دستیابی کو تمام انسولین مصنوعات کی ملک گیر قلت کے طور پر بیان کرنا درست نہیں۔ تاہم مارکیٹ میں دستیابی شہر، فارمیسی اور وقت کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے مریضوں کے لیے اپنے معالج اور مستند فارمیسی سے مخصوص دوا کی دستیابی کی تصدیق اہم ہے۔
وزارت صحت نے خاص طور پر ان مریضوں کو خبردار کیا ہے جنہیں اپیڈرا تجویز کی گئی ہے کہ وہ خود سے اپنی دوا یا خوراک تبدیل نہ کریں۔ ترجمان کے مطابق کسی متبادل انسولین پر منتقلی کے لیے خوراک کی درست ترتیب اور مریض کی انفرادی نگرانی ضروری ہوتی ہے تاکہ خون میں شوگر کا کنٹرول متاثر نہ ہو۔ مختلف تیز اثر انسولین ایک ہی عمومی کلاس میں ہونے کے باوجود ہر مریض کے لیے خوراک اور استعمال کا طریقہ طبی مشورے کے بغیر تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔
انسولین کی طبی اقسام میں اینالاگ انسولین کے تیز اثر، طویل اثر اور پری مکسڈ فارمولیشنز شامل ہیں، جبکہ انسانی انسولین میں مختصر اور درمیانی اثر والی اقسام استعمال ہوتی ہیں۔ حکام کے مطابق موجودہ مسئلہ ان تمام زمروں پر محیط نہیں ہے۔ اس لیے تازہ سرکاری وضاحت کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ اپیڈرا کی سپلائی متاثر ہے، مگر متبادل اور دوسری بنیادی انسولین کلاسز دستیاب ہیں۔
پاکستان میں ضروری ادویات کی دستیابی کا مسئلہ ماضی میں بھی سامنے آتا رہا ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے گزشتہ برسوں میں مختلف ضروری ادویات کی قلت پر تشویش ظاہر کی تھی، تاہم موجودہ انسولین معاملے میں وزارت صحت اور ڈریپ نے عمومی قلت کی تردید کی ہے۔ یہ فرق اہم ہے کیونکہ کسی سابقہ یا دوسری دوا کی قلت کو موجودہ انسولین سپلائی کی صورت حال کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
حکام کی وضاحت کے بعد توجہ اب مخصوص برانڈ کی سپلائی بحال ہونے اور متبادل مصنوعات کی مسلسل دستیابی پر رہے گی۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے محفوظ راستہ یہی ہے کہ تجویز کردہ انسولین دستیاب نہ ہونے کی صورت میں معالج سے رابطہ کریں اور خوراک یا برانڈ میں تبدیلی طبی نگرانی کے تحت کریں۔

