پشاور: خیبرپختونخوا میں صاف پانی کو آلودہ کرنے والی صنعتی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی شروع کرتے ہوئے پشاور، مہمند اور ضلع خیبر میں سات ماربل اور چپس فیکٹریاں سیل کر دی گئی ہیں۔ ریڈیو پاکستان نے صوبائی حکومت کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کارروائی ان یونٹس کے خلاف کی گئی جو صنعتی فضلے کے مناسب انتظام کے تقاضے پورے نہیں کر رہے تھے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق آپریشن کا مرکز ایسے ماربل اور چپس یونٹس ہیں جن کا فضلہ آبی گزرگاہوں اور مقامی ماحول کے لیے نقصان دہ بن رہا ہے۔ ابتدائی کارروائی میں تین اضلاع کے سات صنعتی یونٹس کو بند کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویسٹ مینجمنٹ کے مناسب نظام کے بغیر کام کرنے والے یونٹس کے خلاف ماحولیاتی قوانین کے تحت کارروائی جاری رہے گی۔
صوبائی حکومت کے ذرائع نے خاص طور پر دریائے کابل کے پانی کی آلودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے کسی کارخانے کو رعایت نہیں دی جائے گی جو دریا کو آلودہ کرنے یا ماحولیاتی ضوابط کی خلاف ورزی میں ملوث پایا گیا۔ دریائے کابل پشاور وادی اور آس پاس کے علاقوں کے آبی نظام میں اہم حیثیت رکھتا ہے، اس لیے صنعتی فضلے کا اخراج ماحول اور انسانی استعمال دونوں کے حوالے سے تشویش کا باعث بنتا ہے۔
ماربل کی کٹنگ اور پراسیسنگ کے دوران پانی کے ساتھ باریک پتھریلا فضلہ پیدا ہوتا ہے۔ اگر اسے مناسب طریقے سے جمع اور ٹھکانے نہ لگایا جائے تو یہ نالوں، زمین اور آبی ذخائر تک پہنچ سکتا ہے۔ موجودہ کارروائی میں حکومت نے اسی ویسٹ مینجمنٹ پہلو کو بنیاد بنایا ہے اور سات یونٹس کو مطلوبہ انتظامات نہ ہونے پر سیل کرنے کی اطلاع دی ہے۔
حکام نے ابھی سیل کیے گئے تمام کارخانوں کے نام، ہر یونٹ کے خلاف الگ قانونی دفعات یا جرمانوں کی تفصیل جاری نہیں کی۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ بند یونٹس کن اصلاحی اقدامات کے بعد دوبارہ کام شروع کر سکیں گے۔ اس لیے کارروائی کے اگلے مرحلے اور ممکنہ مزید یونٹس کے خلاف اقدامات سے متعلق تفصیلات متعلقہ صوبائی اداروں کی جانب سے سامنے آنا باقی ہیں۔
سرکاری اعلان کے مطابق بنیادی پالیسی یہ ہے کہ دریائے کابل اور دیگر آبی وسائل کو صنعتی آلودگی سے محفوظ رکھنے کے لیے ماحولیاتی قوانین نافذ کیے جائیں۔ سات فیکٹریوں کی بندش اس مہم کا ابتدائی قابل تصدیق نتیجہ ہے، جبکہ صوبائی حکومت نے کارروائی جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

