لاہور: پنجاب میں سموگ کی صورتحال مزید خراب ہونے کے بعد لاہور کی فضا انتہائی مضر صحت سطح تک پہنچ گئی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس 530 سے تجاوز کر گیا، جو خطرناک درجے میں شمار ہوتا ہے اور شہریوں، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور سانس یا دل کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے شدید طبی خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق آلودگی صرف لاہور تک محدود نہیں رہی بلکہ پنجاب کے متعدد شہری مراکز میں بھی فضائی معیار تیزی سے خراب ہوا ہے۔ ملک کے چھ سب سے زیادہ آلودہ شہروں میں سے پانچ پنجاب میں واقع بتائے گئے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ ایک شہر کے بجائے وسیع علاقائی نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ موسم کی صورتحال، کم ہوا، دھند اور آلودگی پیدا کرنے والے مختلف ذرائع مل کر سموگ کی تہہ کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

فضائی معیار کا انڈیکس فضا میں موجود آلودہ ذرات اور دیگر مضر اجزا کی سطح کا عمومی پیمانہ ہے۔ 500 سے اوپر کی سطح معمول کی صحت عامہ کی حدود سے کہیں زیادہ خطرناک سمجھی جاتی ہے۔ ایسے حالات میں کھلی فضا میں طویل سرگرمی، ورزش اور غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایات اہم ہو جاتی ہیں، جبکہ حساس افراد کے لیے احتیاط کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔

پنجاب میں ہر سال سرد موسم کے آغاز پر سموگ ایک بڑے ماحولیاتی اور صحت عامہ کے مسئلے کے طور پر سامنے آتی ہے۔ گاڑیوں اور صنعتوں کا اخراج، تعمیراتی گرد، زرعی سرگرمیاں اور موسمی حالات آلودگی کے مجموعی بوجھ میں مختلف درجوں میں حصہ ڈالتے ہیں۔ کسی ایک ذریعے کو تمام آلودگی کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں، کیونکہ فضائی معیار متعدد مقامی اور سرحد پار عوامل سے متاثر ہو سکتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں اصل توجہ مسلسل مانیٹرنگ، اخراج میں کمی، ٹریفک اور صنعتی قواعد کے نفاذ اور شہریوں کو بروقت صحت سے متعلق معلومات فراہم کرنے پر ہے۔ لاہور اور دیگر متاثرہ شہروں میں فضائی معیار روزانہ اور گھنٹہ وار تبدیل ہو سکتا ہے، اس لیے شہریوں کے لیے تازہ سرکاری یا معتبر مانیٹرنگ ڈیٹا دیکھنا ضروری ہے۔