لاہور: پنجاب حکومت نے فضائی آلودگی اور موسمی سموگ سے نمٹنے کے لیے تقریباً 7 ارب روپے مالیت کے متعدد ماحولیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔ صوبائی حکام کے مطابق نئی سرمایہ کاری کا مقصد فضائی معیار کی نگرانی کا نیٹ ورک وسیع کرنا، صنعتی اخراج کی نگرانی بہتر بنانا اور آلودگی کے بڑے ذرائع کے خلاف عملی کارروائی کی صلاحیت بڑھانا ہے۔
پنجاب میں ہر سال سردیوں کے آغاز کے ساتھ لاہور اور وسطی اضلاع میں سموگ کی شدت بڑھتی ہے۔ گاڑیوں کا دھواں، صنعت، اینٹوں کے بھٹے، گردوغبار، فصلوں کی باقیات جلانا اور موسمی حالات فضائی آلودگی میں مختلف سطحوں پر کردار ادا کرتے ہیں۔ کم ہوا اور درجہ حرارت کی مخصوص کیفیت آلودہ ذرات کو زمین کے قریب روک سکتی ہے، جس سے کئی دن تک فضائی معیار خطرناک سطح پر رہتا ہے۔
منظور شدہ اقدامات میں فضائی معیار کی پیمائش کے لیے مانیٹرنگ انفراسٹرکچر، ماحولیاتی ضابطوں کے نفاذ کی صلاحیت اور آلودگی پھیلانے والے ذرائع کی نگرانی شامل ہے۔ حکومت نے حالیہ برسوں میں کلین ایئر پروگرام کے تحت گاڑیوں کی جانچ، صنعتی یونٹس کی نگرانی اور بھٹوں کی ٹیکنالوجی بہتر بنانے جیسے اقدامات بھی شروع کیے ہیں۔ نئے منصوبوں کو انہی کوششوں کے تسلسل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
فضائی معیار کی درست اور مسلسل پیمائش پالیسی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس سے آلودگی کی جگہ، وقت اور شدت کا بہتر تعین کیا جا سکتا ہے۔ زیادہ مانیٹرنگ اسٹیشنز اور قابل اعتماد ڈیٹا حکومت کو یہ جانچنے میں مدد دے سکتے ہیں کہ مخصوص پابندی یا اخراج میں کمی کا اقدام واقعی فضائی معیار پر اثر ڈال رہا ہے یا نہیں۔
تاہم صرف آلات اور منصوبوں کی منظوری سموگ کے مسئلے کا فوری حل نہیں۔ ماہرین طویل عرصے سے ٹرانسپورٹ کے اخراج، ایندھن کے معیار، صنعتی نگرانی، شہری منصوبہ بندی اور زرعی باقیات کے انتظام کو ایک مربوط حکمت عملی کے تحت حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں۔ فضائی آلودگی صوبائی سرحدوں سے بھی محدود نہیں رہتی، اس لیے علاقائی تعاون اور مشترکہ ڈیٹا کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔
نئے 7 ارب روپے کے منصوبوں کی کامیابی کا اندازہ فنڈز کے اجرا کے بجائے مانیٹرنگ نیٹ ورک کی عملی فعالیت، قواعد کے نفاذ اور آنے والے سموگ سیزن میں آلودگی کے قابل پیمائش رجحانات سے ہوگا۔ حکومت کے لیے اہم چیلنج یہ ہے کہ ہنگامی موسمی اقدامات کے ساتھ مستقل اخراج میں کمی کی پالیسی بھی جاری رکھی جائے۔
