اسلام آباد: پاکستان کا پہلا بایوماس توانائی مظاہراتی پلانٹ سندھ کے ضلع سجاول میں فعال کر دیا گیا ہے۔ ڈان کے مطابق یہ تنصیب پناہ ریزروڈ فاریسٹ میں قائم کی گئی ہے اور اس کا مقصد دیہی معاشی سرگرمیوں کو سہارا دینا، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانا اور ایندھن کے لیے جنگلاتی وسائل پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنا ہے۔

یہ پلانٹ گلوبل انوائرنمنٹ فیسلٹی کی مالی معاونت سے چلنے والے 'پروموشن اینڈ ایپلیکیشن آف سسٹین ایبل بایوماس انرجی ٹیکنالوجیز اِن پاکستان' منصوبے کے تحت قائم کیا گیا۔ منصوبے پر اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام، وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کے اشتراک سے عمل کر رہا ہے۔ یو این ڈی پی اور سندھ حکومت نے مشترکہ طور پر اس مظاہراتی پلانٹ کا افتتاح کیا۔

رپورٹ کے مطابق سجاول کی یہ تنصیب چار منصوبہ بند مظاہراتی مقامات میں پہلی ہے۔ ان مقامات کا مقصد لکڑی پر مبنی بایوماس توانائی کی ایسی ٹیکنالوجیز کی عملی افادیت دکھانا ہے جنہیں مناسب حالات میں بڑے پیمانے پر اپنایا جا سکے۔ بایوماس توانائی میں زرعی یا نباتاتی مواد کو توانائی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تاہم پائیدار استعمال کے لیے خام مال کی ذمہ دارانہ فراہمی اور جنگلاتی وسائل کے تحفظ کو بنیادی اہمیت حاصل رہتی ہے۔

پاکستان میں دیہی علاقوں کی توانائی ضروریات اور جنگلات پر دباؤ کے تناظر میں اس منصوبے کو ایک تجرباتی ماڈل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حکام اور شراکت دار اداروں کا ہدف یہ جانچنا ہے کہ جدید بایوماس ٹیکنالوجی مقامی سطح پر توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ماحول پر منفی اثرات کم کرنے میں کس حد تک مدد دے سکتی ہے۔

پلانٹ کے فعال ہونے سے منصوبہ عملی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، تاہم اس ٹیکنالوجی کی وسیع پیمانے پر کامیابی کا انحصار اس کے عملی نتائج، لاگت، مقامی خام مال کی پائیدار دستیابی اور مستقبل میں دوسرے مقامات پر قابل عمل توسیع پر ہوگا۔ موجودہ افتتاح کو اسی بڑے پروگرام کا پہلا مظاہراتی قدم قرار دیا گیا ہے۔