لاہور میں منگل کو فضائی آلودگی ایک بار پھر انتہائی سنگین سطح پر پہنچ گئی اور شہر عالمی سطح پر آلودہ ترین بڑے شہروں میں سرفہرست رہا۔ رائٹرز کے مطابق سوئس فضائی معیار ادارے آئی کیو ایئر نے لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 447 ریکارڈ کیا، جبکہ باریک ذرات پی ایم 2.5 کی سطح عالمی ادارہ صحت کی سالانہ رہنما حد سے تقریباً 60 گنا زیادہ بتائی گئی۔ مختلف اداروں کے پیمانے اور حساب کے طریقے مختلف ہوسکتے ہیں، اس لیے اے کیو آئی اعداد کا موازنہ متعلقہ طریقۂ کار کے تناظر میں کرنا ضروری ہے۔

خطے میں موسم سرما سے پہلے درجہ حرارت میں کمی اور کمزور ہواؤں نے گاڑیوں، تعمیراتی سرگرمیوں، صنعتی اخراج اور فصلوں کی باقیات جلانے سے پیدا ہونے والے آلودہ ذرات کو فضا میں روکنے میں کردار ادا کیا۔ پاکستان کے حکام نے ماحولیاتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے اینٹوں کے بھٹوں کے خلاف کارروائی بڑھانے اور کسانوں سے فصلوں کی باقیات نہ جلانے کی اپیل جاری رکھنے کی بات کی ہے۔

شدید سموگ کا مسئلہ لاہور اور وسطی پنجاب میں ہر سال سردیوں کے آغاز پر صحت عامہ، نقل و حرکت اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔ پی ایم 2.5 جیسے باریک ذرات پھیپھڑوں میں گہرائی تک داخل ہوسکتے ہیں، اسی لیے فضائی معیار کی انتہائی خراب سطح پر شہریوں، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور سانس یا دل کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے احتیاط کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ میں دہلی میں بھی آلودگی کی بلند سطح کا ذکر کیا گیا، جہاں آئی کیو ایئر اور بھارت کے مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ نے مختلف پیمانوں کے تحت الگ اے کیو آئی اعداد جاری کیے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جنوبی ایشیا کے وسیع حصے کو موسمی حالات اور مقامی اخراج کے مشترکہ دباؤ کا سامنا ہے۔

لاہور کے لیے فوری توجہ کا مرکز اخراج کے مقامی ذرائع پر مؤثر نگرانی، قوانین کا نفاذ اور شہریوں کو قابل اعتماد فضائی معیار کی معلومات فراہم کرنا ہے۔ موجودہ بلند سطح کسی ایک ذریعے سے منسوب نہیں کی گئی، بلکہ موسمی حالات کے ساتھ متعدد اخراجی ذرائع کے امتزاج کو مسئلے کی شدت سے جوڑا جا رہا ہے۔