سندھ کے ضلع سجاول میں پاکستان کا پہلا بایوماس توانائی ڈیمونسٹریشن پلانٹ فعال کر دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے مطابق یہ سہولت پنہ ریزرو فاریسٹ میں قائم کی گئی ہے اور اسے سندھ حکومت کے ساتھ مشترکہ طور پر افتتاح کیا گیا۔ منصوبے کا مقصد دیہی علاقوں کے لیے نسبتاً صاف توانائی کے متبادل متعارف کرانا، جنگلات پر ایندھن کے دباؤ کو کم کرنا اور مقامی روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
یہ پلانٹ گلوبل انوائرمنٹ فیسلٹی کے مالی تعاون سے جاری پانچ سالہ ’پروموشن اینڈ ایپلیکیشن آف سسٹین ایبل بایوماس انرجی ٹیکنالوجیز اِن پاکستان‘ یعنی PASBET منصوبے کا حصہ ہے۔ یو این ڈی پی یہ پروگرام وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کے اشتراک سے چلا رہا ہے۔ منصوبے کی مجموعی مالیت 35 لاکھ ڈالر بتائی گئی ہے اور سجاول کی سہولت چار مجوزہ ڈیمونسٹریشن مقامات میں پہلی ہے۔
یو این ڈی پی کے مطابق پلانٹ کٹی ہوئی شاخوں، چاول کے بھوسے، کپاس کی چھڑیوں اور دیگر جنگلاتی و زرعی باقیات کو فیول پیلٹس میں تبدیل کرے گا۔ ان پیلٹس کو خصوصی چولہوں اور دیگر دیہی توانائی ضروریات کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ اس طریقے کا مقصد ایسے مواد کو کارآمد بنانا ہے جو عموماً ضائع ہو جاتا ہے یا کھلے ماحول میں جلایا جا سکتا ہے، جبکہ روایتی ایندھن کی لکڑی پر انحصار بھی کم کیا جا سکتا ہے۔
افتتاح کے موقع پر مقامی گھرانوں میں بایوماس پیلٹس پر چلنے والے 130 کم ایندھن خرچ کرنے والے چولہے تقسیم کیے گئے، جبکہ کمیونٹی گروپس کو 20 نرسری ٹول کٹس بھی دی گئیں۔ پروگرام میں خواتین اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت کو اہم جزو قرار دیا گیا ہے۔ محمد حسن جاکھرو گاؤں کی کمیونٹی تنظیم روشنی تنظیم نے مستحق گھرانوں کے انتخاب اور نرسری سرگرمیوں میں تعاون کیا۔
PASBET کے تحت سندھ کے علاوہ پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بھی پائیدار بایوماس ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کا منصوبہ ہے۔ یو این ڈی پی کا کہنا ہے کہ بایوماس کی تیاری، پیلٹ ہینڈلنگ، نقل و حمل، فروخت اور پلانٹ آپریشن جیسے شعبوں میں مقامی ہنر اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
یو این ڈی پی پاکستان کے نمائندہ ڈاکٹر سیموئل رزک نے منصوبے کو دیہی توانائی کی ضروریات اور جنگلات کے تحفظ کو ایک ساتھ آگے بڑھانے کی کوشش قرار دیا۔ سندھ کے محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے چیف کنزرویٹر محمد ریاض واگن کے مطابق سجاول کے تجربے سے کمیونٹی شمولیت اور باقیات کے انتظام کے طریقوں کو وسیع پیمانے پر اپنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ منصوبے کی کامیابی اور اخراج میں حقیقی کمی کا حتمی اندازہ عملی کارکردگی اور مستقبل میں اس ماڈل کے پھیلاؤ کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
