خیبر پختونخوا حکومت مالیاتی نظام کو بہتر بنانے اور صحت، تعلیم اور دیگر عوامی خدمات کے لیے وسائل زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی غرض سے چھ سالہ اصلاحاتی پروگرام شروع کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ اس پروگرام کو عالمی بینک کی معاونت حاصل ہونے کی توقع ہے، تاہم قرض کی حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔
ڈان کی 11 اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کے انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن شعبے سے 20 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری رواں ماہ متوقع ہے۔ منصوبے کے مجموعی مالی وسائل کا تخمینہ 65 کروڑ ڈالر لگایا گیا ہے، جس میں بقیہ حصہ صوبائی حکومت کو فراہم کرنا ہوگا۔ پروگرام مالی سال 2027 سے 2032 تک کی مدت پر مشتمل ہوگا اور اس کا مقصد مقامی محصولات جمع کرنے کی صلاحیت، بجٹ سازی اور عوامی سہولتوں کی فراہمی میں بہتری لانا ہے۔
سرکاری دستاویز کے مطابق اس پروگرام کے ممکنہ بالواسطہ مستفید افراد صوبے کے تقریباً چار کروڑ دس لاکھ باشندے ہوں گے۔ منصوبے میں دیہی مراکز صحت پر خدمات بہتر ہونے سے تقریباً تیرہ لاکھ افراد اور سرکاری ابتدائی اسکولوں کی منصوبہ بندی و اخراجات میں بہتری سے تقریباً سینتیس لاکھ طلبہ کو فائدہ پہنچنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ یہ مجوزہ فوائد ہیں، پہلے سے حاصل شدہ نتائج نہیں۔
پروگرام میں ٹیکس انتظامیہ کی شفافیت اور خدمات بہتر بنانے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ صوبے میں سات لاکھ سے زیادہ جائیداد مالکان، تقریباً دس ہزار زرعی آمدن ٹیکس دہندگان اور دس لاکھ سے زائد گاڑی مالکان کو ممکنہ فائدہ اٹھانے والے گروہوں میں شمار کیا گیا ہے۔ تاہم ضم شدہ اضلاع اور سابق پاٹا علاقوں میں ٹیکس سے متعلق مداخلتوں کو مرکزی نتائج پر مبنی مالیاتی دائرے سے باہر رکھا گیا ہے، کیونکہ صوبائی حکومت نے ان علاقوں کی ٹیکس استثنیٰ کی حیثیت بڑھائی ہے۔ تکنیکی معاونت کے لیے الگ جزو تجویز کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں مالیاتی مسائل کی وجہ وفاقی منتقلیوں پر زیادہ انحصار، تنخواہوں اور پنشن کے بڑھتے اخراجات، محدود مقامی ٹیکس بنیاد اور مختلف صوبائی اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کی کمی کو قرار دیا گیا ہے۔ بعض شہروں میں پراپرٹی ٹیکس اور اسٹامپ ڈیوٹی کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن پر کام ہوچکا ہے، مگر انتظامی صلاحیت کی مزید بہتری ضروری سمجھی گئی ہے۔
اس خبر میں عالمی بینک کی متوقع منظوری کو طے شدہ ادائیگی کے طور پر نہیں پیش کیا جاسکتا۔ پروگرام کا اصل نفاذ، مالی وسائل کی دستیابی اور عوامی خدمات پر اس کے اثرات آئندہ منظوریوں اور صوبائی اداروں کی کارکردگی سے مشروط ہوں گے۔
