پاکستان میں تعمیراتی مواد کی بڑھتی قیمتوں کے درمیان سیمنٹ کے پچاس کلوگرام تھیلے کی اوسط قیمت گزشتہ ایک سال میں 201 روپے بڑھ گئی ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے ہفتہ وار اعدادوشمار کے مطابق 8 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں ایک تھیلے کی اوسط قیمت 1596 روپے ریکارڈ کی گئی، جبکہ 9 اکتوبر 2025 کے اختتام پر یہ 1395 روپے تھی۔ اس حساب سے سالانہ اضافہ 14.38 فیصد بنتا ہے۔

ڈان کی 11 اکتوبر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مہنگے ایندھن اور درآمدی کوئلے کی قیمتوں نے سیمنٹ تیار کرنے کی لاگت کو متاثر کیا ہے۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں سیمنٹ کی قیمت ایک سال پہلے کی اسی مدت سے تقریباً 100 سے 150 روپے فی تھیلا زیادہ رہی۔ کمپنی کے تجزیہ کار نے بتایا کہ جنوبی افریقہ کے رچرڈز بے کوئلے کی اوسط عالمی قیمت ایک سال پہلے کے تقریباً 90 ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر تقریباً 114 ڈالر فی ٹن ہوئی۔

مارکیٹ ذرائع کے اندازے کے مطابق کوئلے کی اضافی لاگت سے فی تھیلا تقریباً 20 روپے اور ڈیزل سے مزید 15 روپے خرچ بڑھا۔ تاہم ان ذرائع نے یہ بھی کہا کہ قیمتوں کا مجموعی اضافہ لاگت میں اضافے سے کہیں زیادہ ہوسکتا ہے اور اس سے صنعت کے منافع میں اضافہ متوقع ہے۔ یہ صنعت سے متعلق ذرائع کے تخمینے ہیں، کسی ریگولیٹری ادارے کا حتمی فیصلہ نہیں۔

ٹاپ لائن کے تخمینے میں لسٹڈ سیمنٹ کمپنیوں کے مجموعی منافع کو مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں 32 ارب 40 کروڑ روپے تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی، جو ایک سال پہلے 27 ارب 80 کروڑ روپے تھا۔ اسی عرصے میں مقامی منڈی کے لیے سیمنٹ کی ترسیل میں آٹھ فیصد اضافہ اور برآمدی ترسیل میں گیارہ فیصد کمی رپورٹ کی گئی۔ یہ مالیاتی پیش گوئیاں حقیقی شائع شدہ نتائج سے مختلف ہوسکتی ہیں۔

سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ مکانوں، عمارتوں اور دوسرے تعمیراتی منصوبوں کی لاگت پر دباؤ ڈالتا ہے۔ خاص طور پر ان گھرانوں کے لیے اس کا اثر زیادہ اہم ہے جو محدود آمدن میں تعمیر یا مرمت کا منصوبہ بناتے ہیں۔ تازہ سرکاری اعدادوشمار قیمت میں اضافے کی تصدیق کرتے ہیں، جبکہ اس اضافے میں لاگت اور منافع کے باہمی تناسب پر مختلف کاروباری حلقوں کی آرا سامنے آئی ہیں۔