صوابی: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبہ وفاقی حکومت کے تعاون کے بغیر مؤثر انداز میں نہیں چل سکتا اور خیبر پختونخوا کو درپیش مسائل کے حل کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان بہتر تعلقات ضروری ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق انہوں نے صوابی میں ایک تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاق کے ساتھ بہتر روابط کو صوبے کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا۔
گورنر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے مسائل کا حل مشترکہ کوششوں سے ممکن ہے اور وفاق کے ساتھ ساتھ دوسرے صوبوں کے ساتھ بھی خوشگوار اور برادرانہ تعلقات کو فروغ دینا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق انتظامی اور عوامی مسائل کو مستقل سیاسی کشیدگی کے بجائے ادارہ جاتی رابطے اور تعاون کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
دہشت گردی سے متعلق سوال پر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ چھ ماہ ایک طویل مدت ہے اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا۔ خیبر پختونخوا حالیہ برسوں میں دہشت گرد حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل رہا ہے، جس کے باعث پولیس کی استعداد، وفاقی سکیورٹی اداروں کے ساتھ رابطہ اور صوبائی سطح پر حکمت عملی مسلسل سیاسی و انتظامی بحث کا موضوع رہے ہیں۔
گورنر نے تجاوزات کے خلاف کارروائی کے معاملے پر بھی قانون کی یکساں عمل داری کی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز اور قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے اور وہ قانون کے اطلاق میں خود کو بھی مستثنیٰ نہیں سمجھتے۔ انہوں نے میڈیا کی تعمیری تنقید کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ مثبت تنقید اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بڑی تبدیلیوں کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اداروں کی کارکردگی اور عوامی سہولیات بہتر بنانے کے لیے دور رس اقدامات درکار ہیں۔ ان کی گفتگو میں کسی نئے مالی پیکیج، سکیورٹی آپریشن یا مخصوص انتظامی منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا؛ بنیادی پیغام وفاقی و صوبائی تعاون، قانون کی عمل داری اور عوامی خدمات میں بہتری کی ضرورت سے متعلق تھا۔ ان بیانات کے عملی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وفاق اور صوبائی اداروں کے درمیان تعاون آئندہ پالیسی اور انتظامی فیصلوں میں کس حد تک تبدیل ہوتا ہے۔
