اسلام آباد: وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن نے وفاقی دارالحکومت کے سرکاری اسکولوں میں پاکستان کے ثقافتی ورثے سے متعلق عملی تعلیمی سرگرمیوں کا نیا پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق ابتدائی مرحلے میں اسلام آباد کے دس اسکولوں کو اس اقدام میں شامل کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق پروگرام جماعت ششم سے ہشتم کے طلبہ کے لیے ترتیب دیا گیا ہے اور اس کا مقصد نوجوانوں کو ملک کے متنوع ثقافتی ورثے، روایتی فنون اور مقامی ہنر سے براہِ راست متعارف کرانا ہے۔ منصوبے میں صرف کتابی معلومات کے بجائے سرگرمیوں، ورکشاپس اور عملی مشقوں کے ذریعے سیکھنے پر زور دیا گیا ہے۔
پروگرام کے تحت اسکولوں میں ہیریٹیج کلب قائم کیے جائیں گے جہاں طلبہ ٹرک آرٹ، مٹی کے برتن بنانے، رباب، روایتی دستکاری اور ڈیجیٹل آرٹ سمیت مختلف ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں گے۔ اس طرح طلبہ کو پاکستان کے مختلف علاقوں میں رائج فنون اور دستکاری کی شکلوں کو سمجھنے اور ان کے تخلیقی پہلوؤں کو آزمانے کا موقع ملے گا۔
وفاقی حکام کے مطابق اس اقدام کا ایک مقصد نئی نسل میں ثقافتی شناخت اور قومی ورثے کے تحفظ کے بارے میں شعور پیدا کرنا بھی ہے۔ پاکستان میں تاریخی مقامات، لوک موسیقی، دستکاری اور علاقائی فنون کی متعدد روایات موجود ہیں، مگر اسکولی سطح پر ان سے عملی واقفیت محدود رہتی ہے۔ مجوزہ کلب اسی خلا کو سرگرمی پر مبنی تعلیم کے ذریعے کم کرنے کی کوشش ہیں۔
ابتدائی مرحلے کو پائلٹ بنیادوں پر دس وفاقی اسکولوں تک محدود رکھا گیا ہے۔ دستیاب سرکاری رپورٹ میں ان تمام اسکولوں کے نام، پروگرام کی مکمل مدت یا ملک کے دیگر شہروں تک توسیع کا حتمی شیڈول نہیں بتایا گیا۔ اس لیے پروگرام کے آئندہ دائرہ کار کے بارے میں مزید تفصیل متعلقہ وزارتوں کے بعد کے اعلانات سے واضح ہوگی۔
تعلیمی اقدام میں ثقافت کو نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر پائلٹ مرحلے کے نتائج مثبت رہے تو یہ ماڈل طلبہ کی تخلیقی صلاحیت، مقامی فنون سے واقفیت اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے تصور کو اسکولی ماحول میں زیادہ نمایاں کرنے کی بنیاد بن سکتا ہے، تاہم کسی ممکنہ توسیع کے بارے میں ابھی کوئی حتمی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔
