لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے پیر 12 اکتوبر 2026 کو جیل حکام کو ہدایت کی کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو دل کے عارضے کی ضروری ادویات فراہم کی جائیں۔ یہ حکم عمران خان کی بہنوں کی احتیاطی حراست کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران دیا گیا۔ عدالت نے بعض دیگر استدعاؤں پر فیصلہ محفوظ رکھا۔
جسٹس ابہر گل خان نے درخواست کی سماعت کی۔ ڈاکٹر عظمیٰ کے شوہر احد خان عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ ان کی اہلیہ دل کے مرض میں مبتلا ہیں اور انہیں روزانہ تین ادویات کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ متعلقہ حکام کو ادویات کی باقاعدہ فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی جائے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد یہ ہدایت جاری کردی۔
درخواست گزار کے وکیل رانا مدثر عمر نے عدالت کے سامنے نورین نیازی کو کپڑے، ادویات اور عینک فراہم کرنے کی اجازت کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بنیادی ضروریات ہیں اور زیرِ حراست افراد کو ان تک رسائی ملنی چاہیے۔ وکیل نے اہل خانہ اور قانونی نمائندوں کی زیرِ حراست خواتین سے ملاقات کی اجازت بھی مانگی۔
وکیل نے لاہور کے کیپیٹل سٹی پولیس افسر اور ڈپٹی کمشنر کو ذاتی طور پر طلب کرنے کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی موجودگی سے نظربندی کے احکامات کے حالات واضح ہوسکیں گے۔ عدالت نے متعلقہ افسران کو طلب کرنے کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کرلیا، اس لیے اس مرحلے پر اسے منظور شدہ حکم قرار نہیں دیا جاسکتا۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان کی تین بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان تقریباً تین ہفتوں سے مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت حراست میں ہیں۔ علیمہ خان کو 20 ستمبر جبکہ نورین اور عظمیٰ کو 21 ستمبر کو تیس روزہ حراست کے احکامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ اقدامات تحریک انصاف کی احتجاجی سرگرمیوں سے قبل سامنے آئے تھے۔
نورین کی بیٹی سکینہ نیازی نے چھ اکتوبر کو احتیاطی حراست کو چیلنج کرنے کے لیے درخواست دائر کی تھی۔ اس سے قبل عدالت بنیادی سہولتوں سے متعلق رپورٹ بھی طلب کرچکی ہے اور 24 ستمبر کو نورین اور عظمیٰ کی نظربندی کے نوٹیفکیشن فوری معطل کرنے کی درخواست مسترد کی گئی تھی۔ موجودہ سماعت میں ادویات کی فراہمی کا حکم حراست کی قانونی حیثیت پر حتمی فیصلہ نہیں ہے۔
آئندہ عدالتی کارروائی میں ملاقاتوں اور دیگر درخواستوں کا فیصلہ سامنے آسکتا ہے، جبکہ موجودہ مصدقہ حکم ڈاکٹر عظمیٰ خان کو ضروری ادویات کی فراہمی سے متعلق ہے۔

