لاہور میں سرد موسم کے آغاز کے ساتھ اسموگ کی شدت بڑھ گئی اور بدھ 28 اکتوبر کی صبح شہر دنیا کے بڑے شہروں کی لائیو فضائی آلودگی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر آگیا۔ ڈان کے مطابق سوئس فضائی معیار مانیٹرنگ پلیٹ فارم IQAir نے صبح 10 بجے لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 296 ریکارڈ کیا، جو امریکی AQI پیمانے پر ’انتہائی غیر صحت بخش‘ درجے میں آتا ہے۔ یہ درجہ بندی وقت کے ساتھ بدل سکتی ہے کیونکہ یہ لائیو مانیٹرنگ پر مبنی ہوتی ہے۔

اسی وقت قاہرہ 289 کے ساتھ دوسرے، دہلی 272 کے ساتھ تیسرے، تاشقند 186 کے ساتھ چوتھے اور کراچی 173 کے ساتھ پانچویں نمبر پر تھا۔ لاہور کی بلند آلودگی بچوں، بزرگ افراد اور سانس یا دل کے امراض میں مبتلا لوگوں کے لیے خاص طور پر خطرہ بڑھا سکتی ہے۔ شہریوں کو شدید آلودگی کے اوقات میں طویل بیرونی سرگرمی محدود رکھنے کا مشورہ دیا گیا۔

پنجاب کے ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کے ترجمان ساجد بشیر نے ڈان کو بتایا کہ صنعتوں کی نگرانی کی جا رہی ہے اور آلودگی کی سطح ریکارڈ کرنے کے لیے آلات نصب کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق موسمی تبدیلیاں اسموگ میں اضافہ کر رہی ہیں، جبکہ فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرقی ہوائیں بھارتی سرحدی علاقوں سے آلودہ ہوا لاہور کی طرف لا رہی ہیں، جس سے وسطی پنجاب میں صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔

حکام کے مطابق شدید اسموگ سے نمٹنے کے لیے الیکٹرک ٹرکوں پر نصب مزید 30 جدید فوگ کینن خریدے اور نصب کیے جا رہے ہیں۔ زیادہ PM10 والے مقامات پر اینٹی اسموگ گنز کو ترجیحی بنیاد پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ سڑکوں اور اطراف کی دھول دبائی جا سکے۔ ترجمان نے ترقیاتی کاموں کو بھی مقامی آلودگی میں حصہ ڈالنے والے عوامل میں شمار کیا۔

لاہور رواں ماہ اس سے پہلے بھی عالمی آلودگی درجہ بندی میں اوپر آچکا ہے۔ فضائی آلودگی کا مسئلہ صنعتی اخراج، ٹریفک، فصلوں کی باقیات جلانے، تعمیراتی دھول اور موسمی و ہوائی عوامل کے امتزاج سے پیدا ہوتا ہے، اس لیے حکام کے اقدامات کے اثرات کا جائزہ مسلسل مانیٹرنگ اور طویل مدتی اخراج میں کمی سے ہی ممکن ہوگا۔