لاہور ہائیکورٹ نے جائیداد کے ایک تنازع میں قرار دیا ہے کہ ریونیو ریکارڈ میں انتقال کا اندراج کسی مبینہ زبانی ہبہ کو خود بخود ثابت نہیں کرتا اور جس شخص کا حقِ ملکیت ایسے ہبہ پر قائم ہو، اسے اصل لین دین کے بنیادی عناصر آزاد اور قابلِ اعتماد شواہد سے ثابت کرنا ہوں گے۔ جسٹس انوار حسین نے راولپنڈی بنچ کے تفصیلی فیصلے میں ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔
عدالت کے مطابق زبانی ہبہ کے تین بنیادی عناصر ہیں: عطیہ دینے والے کی جانب سے واضح اعلان، وصول کرنے والے کی قبولیت اور قبضے کی منتقلی۔ محض انتقال میں کسی لین دین کا اندراج ان عناصر کے ثبوت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ فراڈ کا الزام لگانے والے فریق پر اپنے الزام کے ثبوت کا بوجھ اور ہبہ کی بنیاد پر ملکیت کا دعویٰ کرنے والے فریق پر اصل ہبہ ثابت کرنے کا بوجھ دو الگ قانونی ذمہ داریاں ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اگر فراڈ کا الزام لگانے والا شخص اپنی کسی مخصوص بات کو مکمل طور پر ثابت نہ بھی کر سکے تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ہبہ خود بخود ثابت ہو گیا۔ خاص طور پر ایسے معاملے میں جہاں مبینہ ہبہ کے نتیجے میں قانونی وارث وراثت سے محروم ہوں، فائدہ اٹھانے والے شخص سے اصل لین دین کا مضبوط ثبوت درکار ہوگا۔
یہ مقدمہ محمد شریف نامی شخص کی جائیداد سے متعلق تھا۔ 22 فروری 2011 کے ایک انتقال کے ذریعے ان کی اہلیہ کے حق میں مبینہ زبانی ہبہ درج کیا گیا تھا۔ محمد شریف بے اولاد تھے اور 5 اپریل 2011 کو انتقال کر گئے۔ ان کے بھتیجوں نے انتقال کو جعلی اور دھوکا دہی پر مبنی قرار دیتے ہوئے چیلنج کیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے 2015 میں دعویٰ خارج کیا اور اپیلٹ عدالت نے 2016 میں فیصلہ برقرار رکھا تھا۔
ہائیکورٹ نے محمد شریف کی وفات سے قبل خراب صحت سے متعلق عدالتی ریکارڈ اور گواہیوں کا بھی جائزہ لیا۔ فیصلے کے مطابق وہ علاج کے لیے انسانی بنیادوں پر عدالتی کارروائی سے رخصت کیے گئے اور چھ روز بعد وفات پا گئے۔ عدالت نے کہا کہ بیماری اور وفات کا محض زمانی قرب خود ’مرض الموت‘ ثابت نہیں کرتا، بلکہ بیماری کی نوعیت، معمولات پر اثر اور موت کے خدشے سمیت تمام حالات کا جائزہ ضروری ہے۔
عدالت نے سول ریویژن منظور کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے فیصلے اور ڈگریاں ختم کر دیں اور درخواست گزاروں کے حق میں دعویٰ منظور کیا۔ یہ فیصلہ زبانی ہبہ کے مقدمات میں ثبوت کے بوجھ اور انتقال کی قانونی حیثیت کے بارے میں اہم اصول واضح کرتا ہے، تاہم اس کا اطلاق ہر مقدمے کے مخصوص حقائق اور شواہد کے مطابق ہوگا۔

