پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں دفعہ 144 کے تحت عائد پابندیوں میں مزید 10 روز کی توسیع کرتے ہوئے انہیں 15 اکتوبر تک نافذ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ صوبائی محکمہ داخلہ کے 6 اکتوبر کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق فیصلہ ممکنہ دہشت گرد سرگرمیوں سے متعلق خطرات اور امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق عوامی مقامات، گلیوں، سڑکوں، شاہراہوں، موٹرویز اور کھلی جگہوں پر پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماعات، جلوس، ریلیاں، دھرنے، مظاہرے اور جلسے پابندی کے دائرے میں آئیں گے۔ محکمہ داخلہ نے کہا کہ ایسی سرگرمیوں کے دوران بڑے اجتماعات ممکنہ دہشت گرد حملوں کے لیے ہدف بن سکتے ہیں اور کسی ناخوشگوار واقعے کے امکان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
حکومت کے مطابق نئی مدت 6 اکتوبر سے 10 روز کے لیے نافذ ہے اور اگر اس دوران حکم میں ترمیم یا اسے واپس نہ لیا گیا تو پابندی 15 اکتوبر تک برقرار رہے گی۔ اس سے قبل نافذ 13 روزہ مدت 5 اکتوبر کو ختم ہوئی تھی۔ صوبے میں اس نوعیت کی پابندیاں ستمبر سے مختلف ادوار میں نافذ رہی ہیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ جاری ہے اور وفاقی و صوبائی سطح پر سیاسی کشیدگی بھی موجود ہے۔ تاہم سرکاری نوٹیفکیشن میں پابندی کی بنیادی وجہ سکیورٹی خطرات اور عوامی امن و سلامتی کو قرار دیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے بیانات اور حکومت کی سیاسی تشریحات اپنی جگہ، قانونی حکم کی بنیاد محکمہ داخلہ کا جاری کردہ نوٹیفکیشن ہے۔
دفعہ 144 کے تحت انتظامیہ مخصوص مدت کے لیے ایسے اجتماعات یا سرگرمیوں پر پابندی لگا سکتی ہے جن کے بارے میں اسے امن عامہ یا سلامتی کے لیے خطرے کا خدشہ ہو۔ حالیہ عرصے میں اسلام آباد، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں بھی مختلف نوعیت کی پابندیاں نافذ کی گئی ہیں، مگر ان کے دورانیے اور مقامی شرائط الگ ہیں۔
پنجاب کے تازہ حکم کے تحت شہریوں اور سیاسی و سماجی تنظیموں کو پابندی کی مدت کے دوران متعلقہ ضوابط کی پابندی کرنا ہوگی۔ نوٹیفکیشن میں جن خطرات کا حوالہ دیا گیا ہے ان کی مخصوص عملی تفصیلات عام نہیں کی گئیں، اس لیے کسی خاص منصوبہ بند حملے یا گروہ کے بارے میں غیر مصدقہ قیاس آرائی مناسب نہیں ہوگی۔

