پاکستان تحریک انصاف کا احتجاجی مارچ 6 اکتوبر کو دوسرے روز خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ کی تحصیل لاچی تک پہنچ گیا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وہاں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی جدوجہد طویل ہو سکتی ہے اور شرکا کو اپنی توانائی برقرار رکھتے ہوئے مسلسل متحرک رہنا ہوگا۔ پارٹی کے طے شدہ شیڈول کے مطابق قافلے کو کوہاٹ سے پشاور کی سمت بڑھنا ہے اور اگلا قیام پشاور کے مضافاتی علاقے متنی کے قریب متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق سہیل آفریدی نے وفاق کی انسداد دہشت گردی پالیسی پر اپنے تحفظات بھی دہرائے اور کہا کہ صوبے یا ملک کے بارے میں ایسے فیصلے قابل قبول نہیں ہوں گے جو ان کے بقول بند کمروں میں کیے جائیں۔ انہوں نے کارکنوں کو سوات یا اسلام آباد کی جانب فوری پیش قدمی کا کوئی واضح نیا اعلان نہیں دیا، تاہم انہیں سوابی میں جمع ہونے کی تیاری جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ پارٹی کے ڈیجیٹل میڈیا فوکل پرسن کے مطابق قافلے کا پروگرام 6 اکتوبر کو پشاور پہنچنے، بعد ازاں چارسدہ انٹرچینج سے گزرتے ہوئے 8 اکتوبر تک خیرآباد کی سمت بڑھنے پر مشتمل ہے۔
اسی احتجاجی سلسلے کے دوران سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں ڈی آئی خان سے نکلنے والا قافلہ یارک کے مقام پر سڑکوں کی بندش اور امن و امان کی صورتحال کے باعث واپس مڑ گیا۔ گنڈاپور نے کارکنوں سے کہا کہ عوامی یا سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچایا جائے اور ایسی کسی کارروائی سے گریز کیا جائے جس سے حالات خراب ہوں۔ کراچی میں بھی پی ٹی آئی کی مجوزہ احتجاجی سرگرمیوں کے دوران پولیس نے مختلف مقامات پر نفری تعینات کی، راستے بند کیے اور متعدد کارکنوں کو حراست میں لیا، جیسا کہ ڈان نے رپورٹ کیا۔
یہ مارچ سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی اور وفاقی حکومت کے ساتھ سیاسی و پالیسی اختلافات کے تناظر میں جاری ہے۔ رائٹرز نے 5 اکتوبر کو رپورٹ کیا تھا کہ ہزاروں حامی خیبر پختونخوا سے دارالحکومت کی سمت احتجاجی مہم شروع کر رہے ہیں، جبکہ حکومت نے اسلام آباد کے گرد سکیورٹی سخت کر رکھی ہے۔ احتجاج کی آئندہ سمت اور دارالحکومت کی جانب پیش قدمی سے متعلق حتمی فیصلہ پارٹی قیادت کے اگلے اعلانات سے واضح ہوگا۔

