پاکستان نے 6 اکتوبر کو مقامی طور پر تیار کردہ فتح-IV گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل کے توسیعی رینج ورژن کا کامیاب آزمائشی لانچ کیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر، کے بیان کے مطابق تجربے کا مقصد میزائل نظام میں شامل مختلف ذیلی نظاموں اور توسیعی رینج سے متعلق تکنیکی صلاحیتوں کی جانچ کرنا تھا۔ ڈان اور سرکاری ریڈیو پاکستان دونوں نے آئی ایس پی آر کے حوالے سے اس آزمائش کی تصدیق کی ہے۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ فتح-IV نظام جدید ایویونکس اور نیوی گیشن معاونت سے لیس ہے اور دور فاصلے پر اہداف کو زیادہ درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ فوجی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ تازہ تجربے کے دوران بہتر درستگی اور نظام کی بقا سے متعلق چند اضافی تکنیکی پیرامیٹرز کی توثیق کی گئی۔ ان دعوؤں کی تفصیلی تکنیکی وضاحت یا آزادانہ جانچ کی معلومات جاری نہیں کی گئیں، اس لیے انہیں سرکاری بیان کے طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے۔

سرکاری معلومات کے مطابق آزمائشی لانچ کے موقع پر پاک فوج کے سینئر افسران کے علاوہ متعلقہ ترقیاتی ادارے کے سائنس دان اور انجینئر بھی موجود تھے۔ صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر سروسز چیفس نے تجربے کی کامیابی پر ٹیموں کو مبارکباد دی اور منصوبے پر کام کرنے والے سائنس دانوں، انجینئروں اور اہلکاروں کی تکنیکی کاوشوں کو سراہا۔

فتح-IV خاندان کے میزائل نظام کی اس سے پہلے بھی آزمائشیں کی جا چکی ہیں۔ ڈان کے مطابق مئی 2026 میں فتح-IV گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل کا ایک کامیاب تجربہ رپورٹ ہوا تھا، جبکہ اپریل میں فتح-II میزائل نظام کی تربیتی آزمائش بھی کی گئی تھی۔ ستمبر 2025 میں بھی فتح-IV کروز میزائل کی 750 کلومیٹر رینج کے ساتھ تربیتی لانچ کی اطلاع دی گئی تھی۔ 6 اکتوبر کا تازہ تجربہ اس پروگرام کے توسیعی رینج ورژن سے متعلق الگ پیش رفت ہے۔

فوج کی جانب سے جاری بیان میں آزمائش کو دفاعی ٹیکنالوجی کے مقامی پروگرام میں پیش رفت قرار دیا گیا۔ تاہم تجربے کے مخصوص مقام، توسیعی رینج کی نئی عددی حد یا تعیناتی کے ٹائم فریم سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ اس لیے دستیاب مصدقہ معلومات آزمائشی لانچ کی کامیابی اور آئی ایس پی آر کی جانب سے بیان کردہ عمومی صلاحیتوں تک محدود ہیں۔