پاکستان نے مقامی طور پر تیار کردہ فتح-4 گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل کے توسیعی ورژن کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر، کے مطابق نئے تجربے کا مقصد میزائل کے طویل فاصلے پر ہدف کو درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت اور مختلف تکنیکی ذیلی نظاموں کی کارکردگی کی توثیق کرنا تھا۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ فتح-4 کا یہ ورژن جدید ایویونکس اور جدید نیویگیشنل آلات سے لیس ہے۔ فوجی بیان کے مطابق ہتھیار کا نظام زیادہ فاصلے پر اہداف کو بلند درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تجربے کے دوران درستگی بہتر بنانے اور نظام کی بقا کی صلاحیت بڑھانے کے لیے شامل کیے گئے مختلف سب سسٹمز کے اضافی تکنیکی پیمانوں کو بھی جانچا گیا۔
فوج کے مطابق تجربے کا مشاہدہ پاک فوج کے سینئر افسران کے ساتھ اس نظام کی تیاری سے وابستہ سائنسدانوں اور انجینئرز نے کیا۔ سرکاری بیان میں توسیعی ورژن کی نئی زیادہ سے زیادہ رینج کی عددی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔ اس لیے سابقہ ورژن کی رینج کو نئے ورژن کی حتمی رینج کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔
صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سروسز چیفس نے تجربے کی کامیابی پر متعلقہ ٹیموں کو سراہا۔ سرکاری بیان میں سائنسدانوں، انجینئرز اور دیگر اہلکاروں کی تکنیکی صلاحیت، لگن اور کردار کی تعریف کی گئی۔
فتح-4 پاکستان کے مقامی طور پر تیار کیے جانے والے میزائل نظاموں میں شامل ہے۔ رواں سال مئی میں بھی اس نظام کی تربیتی لانچ رپورٹ ہوئی تھی، جبکہ اس سے قبل مختلف فتح سیریز نظاموں کے تجربات کیے جا چکے ہیں۔ تازہ تجربہ سابقہ آزمائشوں سے الگ واقعہ ہے کیونکہ فوج نے اسے واضح طور پر فتح-4 کے ’ایکسٹینڈڈ ورژن‘ کی آزمائش قرار دیا ہے۔
میزائل تجربات سے متعلق تکنیکی معلومات عموماً محدود سرکاری بیانات میں جاری کی جاتی ہیں۔ موجودہ اعلان میں ہدف کے مقام، پرواز کی مکمل پروفائل یا نئی حتمی رینج کی تفصیل نہیں دی گئی۔ لہٰذا رپورٹ میں صرف وہی صلاحیتیں شامل ہیں جن کی آئی ایس پی آر نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے، جبکہ اضافی دعوؤں یا غیر سرکاری اندازوں کو حتمی حقیقت نہیں سمجھا گیا۔

