قومی ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے انسدادِ پولیو نے ضلع خیبر میں سات سالہ بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد پاکستان میں 2026 کے دوران رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق متاثرہ بچہ تحصیل جمرود کی یونین کونسل غنڈی اے کا رہائشی ہے۔

پاکستان پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو نے کیس کی جامع تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق متاثرہ علاقے اور دیگر زیادہ خطرے والے مقامات میں بچوں تک رسائی بڑھانے کے لیے اضافی اقدامات کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جن میں نسبتاً بڑی عمر کے بچوں کو منہ کے قطروں کے ساتھ انجیکشن کے ذریعے ویکسین دینے اور معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری کو مضبوط بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے چھ کیسز میں سے پانچ خیبر پختونخوا میں سامنے آئے ہیں۔ پولیو پروگرام کا کہنا ہے کہ ملک میں مجموعی وائرس ٹرانسمیشن میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کمی آئی ہے، تاہم جنوبی خیبر پختونخوا اور خیبر پشاور بلاک جیسے اہم علاقوں میں وائرس کی موجودگی بدستور تشویش کا باعث ہے۔

ضلع خیبر کے ڈپٹی کمشنر شاہد علی کے مطابق زیادہ خطرے والے علاقوں میں خصوصی ویکسینیشن مہم شروع کی جائے گی۔ مقامی حکام کے مطابق یہ ضلع خیبر میں 2019 کے بعد رپورٹ ہونے والا پہلا پولیو کیس ہے۔ کیس کی مزید وبائیاتی تحقیقات سے یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ وائرس کی ترسیل کا سلسلہ کہاں اور کس حد تک موجود ہے۔

قومی پولیو پروگرام کے مطابق 2026 میں اب تک چار بڑے پیمانے کی ویکسینیشن مہمات کی جا چکی ہیں جن میں 45 ملین سے زیادہ بچوں کو متعدد مرتبہ حفاظتی قطرے دینے کی کوشش کی گئی۔ گزشتہ ماہ کی ذیلی قومی مہم میں بھی کروڑوں بچوں تک رسائی کی گئی۔ اس کے باوجود بعض علاقوں میں سکیورٹی، نقل و حرکت، رسائی اور ویکسین سے متعلق ہچکچاہٹ جیسے عوامل مہم کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

پولیو ایک متعدی بیماری ہے جو مستقل فالج کا سبب بن سکتی ہے اور اس کا کوئی علاج موجود نہیں، تاہم ویکسین سے اس کی روک تھام ممکن ہے۔ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ ممالک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس کی مقامی ترسیل اب بھی برقرار ہے۔ حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ بچوں کو ہر مہم میں ویکسین دلوائیں اور معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری بھی مکمل رکھیں۔