شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے پانچ دہشت گردوں کو ہلاک اور دو کو زخمی کر دیا۔ سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان اور دیگر پاکستانی ذرائع ابلاغ نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کارروائی شمالی وزیرستان اور اس سے ملحقہ علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کی گئی۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی مسلسل نگرانی کر رہی تھیں، جس کے بعد انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن کیا گیا۔ کارروائی کے دوران پانچ دہشت گرد مارے گئے جبکہ دو زخمی ہوئے۔ حکام نے فوری طور پر ہلاک یا زخمی افراد کی شناخت، ان سے برآمد ہونے والے اسلحے یا کارروائی کے مقام کی مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔ اس لیے دستیاب سرکاری معلومات سے آگے کسی اضافی نقصان یا گرفتاری کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔

ریاستی ذرائع نے ہلاک ہونے والوں کے لیے ’فتنہ الخوارج‘ کی اصطلاح استعمال کی، جو پاکستانی حکام کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسلک دہشت گردوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی اور اسے عزمِ استحکام کے تحت جاری انسدادِ دہشت گردی کوششوں کا حصہ قرار دیا۔

صدر آصف علی زرداری نے آپریشن میں حصہ لینے والی سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور بہادری کو سراہا۔ ان کے بیان کے مطابق بروقت کارروائیاں دہشت گرد عناصر کے منصوبوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کو حکومت کی ترجیح قرار دیا۔

شمالی وزیرستان اور خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع میں حالیہ عرصے کے دوران سکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بنیاد پر متعدد کارروائیاں رپورٹ ہوئی ہیں۔ تاہم ہر کارروائی کے اعداد و شمار اور نتائج الگ واقعات سے متعلق ہیں۔ 6 اکتوبر کی اس کارروائی کے بارے میں فی الحال بنیادی طور پر سکیورٹی ذرائع کی فراہم کردہ تفصیلات سامنے آئی ہیں، اور کسی آزاد ذریعے سے آپریشن کی تمام جزئیات کی علیحدہ تصدیق دستیاب نہیں۔