لاس اینجلس یونیفائیڈ اسکول ڈسٹرکٹ نے تمام جماعتوں میں اسکول کی جانب سے فراہم کردہ ڈیوائسز پر جنریٹو مصنوعی ذہانت کے استعمال کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ امریکا کے دوسرے بڑے سرکاری اسکول نظام نے یہ فیصلہ بدھ دو ستمبر 2026 کو ایک کمیٹی اجلاس میں کیا، جس کا مقصد طلبہ کے لیے اے آئی کے ممکنہ خطرات، تعلیمی استعمال اور حفاظتی اصولوں کا مزید جائزہ لینا بتایا گیا ہے۔

یہ اقدام مستقل اور ہر نوعیت کی مصنوعی ذہانت پر مکمل پابندی کے بجائے ایک موقوفی ہے۔ دستیاب رپورٹ میں اس کی حتمی مدت یا نظرثانی کی مقررہ تاریخ نہیں بتائی گئی۔ پابندی کا دائرہ اسکول کی جاری کردہ ڈیوائسز اور تمام گریڈ لیولز تک ہے؛ طلبہ اپنے ذاتی فون، کمپیوٹر یا دوسرے آلات پر ان ٹولز تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں، اس لیے فیصلہ جنریٹو اے آئی کے ہر ممکن استعمال کو ختم نہیں کرتا۔

امریکی غیر منافع بخش ادارے کامن سینس میڈیا کی چیف پروگرام آفیسر نے لاس اینجلس ٹائمز کو بتایا کہ ضلع طلبہ کے جنریٹو اے آئی استعمال سے جڑے اہم خطرات کا جائزہ لینے کے لیے وقت لے رہا ہے۔ ان کے مطابق اسی عرصے میں اے آئی خواندگی سکھائی جاسکتی ہے اور بچوں کو لازماً جنریٹو ٹول استعمال کرائے بغیر بھی یہ سمجھایا جاسکتا ہے کہ نظام کیسے کام کرتے ہیں، ان کی حدود کیا ہیں اور نتائج کی جانچ کیوں ضروری ہے۔

انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ متعدد معروف اے آئی مصنوعات بچوں کی حفاظت یا تدریسی مقاصد کے مطابق تیار نہیں کی گئیں۔ کامن سینس میڈیا کی تحقیق کے مطابق امریکی نوعمر طلبہ میں اے آئی کا استعمال پہلے ہی وسیع ہوچکا ہے اور اسکول میں پابندی کے باوجود بچے ذاتی ڈیوائسز کے ذریعے اسے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ادارے کا تحقیقی جائزہ ہے، کسی مخصوص لاس اینجلس طالب علم کے غلط استعمال کا ثبوت نہیں۔

اسکولوں کے لیے بنیادی سوال صرف نقل یا ہوم ورک تک محدود نہیں۔ جنریٹو اے آئی غلط یا گھڑی ہوئی معلومات پیش کرسکتا ہے، طلبہ کا ڈیٹا جمع ہوسکتا ہے، عمر کے مطابق ناموزوں مواد سامنے آسکتا ہے اور کسی طالب علم کی اپنی تحریری یا تحقیقی صلاحیت کا درست اندازہ متاثر ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب مناسب نگرانی میں یہی ٹیکنالوجی خیالات ترتیب دینے، زبان سیکھنے، معلومات تک رسائی اور خصوصی تعلیمی ضرورتوں میں مدد دے سکتی ہے۔ موقوفی کے دوران پالیسی سازوں کو ان فوائد اور خطرات کے درمیان قابل عمل توازن طے کرنا ہوگا۔

لاس اینجلس کا فیصلہ نیویارک شہر میں آٹھویں جماعت تک طلبہ کے لیے ایک سالہ اے آئی پابندی کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ مختلف امریکی اسکول نظام ایک ہی پالیسی اختیار نہیں کررہے؛ بعض مکمل پابندی، بعض محدود رسائی اور بعض نگرانی کے ساتھ تدریسی استعمال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس اختلاف کی وجہ تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی اور بچوں کے لیے یکساں قومی ضابطے کی عدم موجودگی ہے۔

لاس اینجلس یونیفائیڈ اسکول ڈسٹرکٹ نے 2024 میں کلاس رومز میں موبائل فون کے استعمال پر بھی پابندی کا فیصلہ کیا تھا۔ تازہ اقدام اسی وسیع بحث کا حصہ ہے جس میں تعلیمی ادارے اسکرین ٹائم، توجہ، ڈیجیٹل انحصار، پرائیویسی اور نئی ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال سے نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں۔

چار ستمبر تک تصدیق شدہ صورت حال یہ ہے کہ ضلع نے اسکول کی فراہم کردہ ڈیوائسز پر جنریٹو اے آئی کے استعمال کو عارضی طور پر روکا ہے۔ کوئی مستقل ملک گیر امریکی پابندی نافذ نہیں ہوئی، ذاتی آلات مکمل طور پر اس فیصلے کے دائرے میں نہیں آتے اور مستقبل کی پالیسی، استثنا یا تدریسی رہنما اصول ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔