لاس اینجلس: امریکا کے لاس اینجلس یونیفائیڈ اسکول ڈسٹرکٹ نے 2026-27 تعلیمی سال کے لیے تمام جماعتوں کے طلبہ کی جانب سے ڈسٹرکٹ کی فراہم کردہ ڈیوائسز پر جنریٹو مصنوعی ذہانت کے استعمال پر عارضی پابندی نافذ کر دی ہے۔ یہ اقدام مستقل قانونی ممانعت کے بجائے پالیسی کا دوبارہ جائزہ لینے تک ایک موقوفی ہے۔

پالیسی کی تفصیل دو ستمبر کو اسکول بورڈ کی جنریٹو اے آئی سے متعلق خصوصی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں سامنے آئی۔ ضلعی تعلیمی اور ٹیکنالوجی حکام نے بتایا کہ طلبہ اب ڈسٹرکٹ کے لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹ یا دیگر فراہم کردہ آلات پر چیٹ بوٹس اور تحریر، تصویر یا دیگر مواد تیار کرنے والے جنریٹو اے آئی ٹولز تک رسائی حاصل نہیں کر سکیں گے۔ پابندی تمام گریڈز کے طلبہ پر لاگو ہے۔

لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق یہ فیصلہ اسکول بورڈ کی الگ نئی ووٹنگ کے ذریعے نہیں بلکہ سینئر ضلعی منتظمین نے جون میں منظور ہونے والی اسکرین ٹائم پالیسی کی روح کے مطابق اپنی انتظامی اختیار سے نافذ کیا۔ بعض بورڈ ارکان نے کمیٹی اجلاس میں کہا کہ انہیں اس مکمل موقوفی کا پہلے علم نہیں تھا، اگرچہ انہوں نے طلبہ کے استعمال کے تحفظات سے اختلاف نہیں کیا۔ اس لیے اسے بورڈ کی متفقہ مستقل اے آئی پابندی کہنا درست نہیں ہوگا۔

نئی پالیسی سے پہلے 13 برس یا اس سے زیادہ عمر کے طلبہ نگرانی میں اور ڈیجیٹل شہریت و ذمہ دار استعمال کی مطلوبہ تربیت مکمل کرنے کے بعد منظور شدہ جنریٹو اے آئی ٹولز استعمال کر سکتے تھے۔ موجودہ تعلیمی سال میں یہ رسائی روک دی گئی ہے، جبکہ ضلعی کمیٹی مستقبل کے لیے حفاظتی اصول، تعلیمی مقاصد اور ممکنہ استثنا طے کرنے پر کام کرے گی۔ ضلعی ترجمان کے مطابق سفارشات تعلیمی سال کے اختتام تک بورڈ کو پیش کیے جانے کی توقع ہے۔

پابندی کا دائرہ ڈسٹرکٹ کی ملکیت والی ڈیوائسز تک واضح طور پر محدود ہے۔ حکام نے کہا کہ طلبہ اپنی ذاتی ڈیوائسز پر کیا استعمال کرتے ہیں، اس بارے میں فی الحال ایک جیسی جامع ضلعی پالیسی موجود نہیں۔ البتہ اگر کوئی طالب علم ذاتی آلے سے اپنے اسکول اکاؤنٹ میں لاگ اِن ہو کر اے آئی سروس استعمال کرے تو اس سرگرمی کو ضلعی نظام میں دیکھا جا سکتا ہے۔

اساتذہ کو ڈسٹرکٹ کی ڈیوائسز پر اے آئی استعمال کرنے سے عمومی طور پر نہیں روکا گیا۔ تاہم ضلع نے واضح کیا کہ اس وقت ایسا کوئی یکساں نظام موجود نہیں جس کے ذریعے اساتذہ اے آئی سے طلبہ کے کام کی گریڈنگ یا تعلیمی بددیانتی کی خودکار شناخت کریں۔ یوں طلبہ کی براہِ راست رسائی اور اساتذہ کے معاون استعمال کو الگ پالیسی معاملات سمجھا گیا ہے۔

ضلعی حکام نے یہ بھی فرق کیا ہے کہ جنریٹو اے آئی پر موقوفی تمام تعلیمی ٹیکنالوجی یا ہر قسم کی مصنوعی ذہانت پر پابندی نہیں۔ سوالات کی مشکل طالب علم کی کارکردگی کے مطابق بدلنے والے اڈاپٹو سسٹمز، تقریر کی شناخت، متن کو آواز میں تبدیل کرنے، براہِ راست کیپشن اور ترجمے جیسے غیر جنریٹو معاون اوزار ضرورت کے مطابق استعمال ہو سکتے ہیں۔

والدین کے بعض گروہوں اور بچوں کی ڈیجیٹل حفاظت پر کام کرنے والی تنظیموں نے پابندی کی حمایت کی ہے، جبکہ پالیسی سازوں کے سامنے اب یہ سوال ہے کہ اے آئی خواندگی سکھانے، نقل یا حد سے زیادہ انحصار روکنے، معلومات کی درستگی اور طلبہ کی رازداری کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔ یہ حمایت یا خدشات پالیسی مباحث ہیں؛ تازہ تصدیق شدہ فیصلہ صرف موجودہ تعلیمی سال میں ڈسٹرکٹ ڈیوائسز پر طلبہ کی جنریٹو اے آئی رسائی روکنا ہے۔

لاس اینجلس کا اسکول نظام امریکا کے بڑے ترین سرکاری تعلیمی اضلاع میں شمار ہوتا ہے، اس لیے اس فیصلے کے اثرات دیگر اضلاع کی بحث میں بھی نمایاں ہو سکتے ہیں۔ تاہم ہر امریکی ضلع اپنی پالیسی خود بناتا ہے اور لاس اینجلس کی موقوفی پورے کیلیفورنیا یا امریکا پر نافذ وفاقی پابندی نہیں ہے۔