کراچی: لکی سیمنٹ لمیٹڈ نے اپنے کراچی پلانٹ میں سالانہ 3.2 ملین ٹن اضافی پیداواری صلاحیت کی براؤن فیلڈ توسیع کا منصوبہ پیش کیا ہے، جس کی تجارتی پیداوار دسمبر 2027 تک شروع کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ منصوبہ مکمل ہونے پر پاکستان میں کمپنی کی مجموعی سیمنٹ پیداواری صلاحیت 18.8 ملین ٹن سالانہ تک پہنچنے کی توقع ہے۔
کمپنی کی مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی سے متعلق تجزیہ کار بریفنگ کے نکات کے مطابق کراچی کی توسیع اور اضافی قابل تجدید توانائی منصوبوں پر کم از کم 50 ارب روپے سرمایہ خرچ ہونے کی توقع ہے۔ انتظامیہ نے بتایا کہ نئی پیداواری لائن میں چینی اور یورپی ٹیکنالوجی کا امتزاج ہوگا، زیادہ تر اجزا چین سے حاصل کیے جائیں گے جبکہ بعض مخصوص آلات یورپی ٹیکنالوجی پر مبنی ہوں گے۔
کمپنی نے کہا کہ اضافی پیداوار کے استعمال میں پہلے ملکی طلب کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ منافع بخش مواقع دستیاب ہونے پر برآمدی منڈیوں کو بھی سپلائی کی جائے گی۔ انتظامیہ کے مطابق جنوبی خطے میں سیمنٹ کی طلب میں بہتری دیکھی جا رہی ہے اور ریٹیل فروخت کے ساتھ انفراسٹرکچر سے متعلق طلب بھی معاون ہے۔ کمپنی نے جنوبی مارکیٹ میں پانچ سے چھ فیصد نمو کی توقع ظاہر کی ہے۔
توسیعی منصوبے کے ساتھ لکی سیمنٹ کراچی پلانٹ میں مزید 22.5 میگاواٹ ونڈ پاور شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس اضافے سے پلانٹ کی نصب شدہ ونڈ پاور صلاحیت 28.5 میگاواٹ سے بڑھ کر 51.3 میگاواٹ ہو جائے گی۔ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں قابل تجدید توانائی کمپنی کے پاور مکس کا 51 فیصد تھی، اور انتظامیہ کو توقع ہے کہ جنوبی پلانٹ میں نئی ونڈ صلاحیت کے بعد یہ حصہ 61 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔
کمپنی نے ایندھن اور پیکیجنگ اخراجات کو بھی اہم لاگتی عوامل قرار دیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق نئی کراچی لائن کے فعال ہونے کے بعد فی ٹن سیمنٹ کوئلے کی اوسط کھپت تقریباً 135 کلوگرام سے کم ہو کر 125 کلوگرام تک آنے کی توقع ہے۔ یہ تمام اعداد و اہداف کمپنی کی موجودہ منصوبہ بندی اور انتظامیہ کی توقعات پر مبنی ہیں؛ دسمبر 2027 کی تجارتی آغاز کی تاریخ سمیت عملی نتائج تعمیراتی پیش رفت، طلب، لاگت اور دیگر کاروباری حالات سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

