اسلام آباد: وفاقی حکومت نے میجر جنرل فیصل نصیر کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کا نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر کر دیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے 4 ستمبر کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تقرری وفاقی حکومت کی منظوری سے نیکٹا ایکٹ 2013 کی دفعہ 9(1) کے تحت سیکنڈمنٹ کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ عہدے کی مدت تین سال مقرر کی گئی ہے، تقرری فوری طور پر نافذ العمل ہوگی اور نوٹیفکیشن کے مطابق معیاری شرائط و ضوابط اور مزید احکامات تک برقرار رہے گی۔
سیکنڈمنٹ سے مراد حاضر سروس مسلح افواج کے افسر کی ایک سرکاری ادارے سے دوسرے ادارے میں مقررہ مدت کے لیے تعیناتی ہے۔ قومی ذرائع کے مطابق میجر جنرل فیصل نصیر اس تقرری سے پہلے انٹر سروسز انٹیلی جنس میں ڈائریکٹر جنرل (سی) کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔ ڈان نے وضاحت کی ہے کہ یہ عہدہ عموماً غلط طور پر کاؤنٹر انٹیلی جنس ونگ کی سربراہی کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، جبکہ یہ دراصل ادارے کے داخلی ونگ سے متعلق ذمہ داری ہے۔ تقرری کے سرکاری نوٹیفکیشن میں سابق عہدے سے متعلق سیاسی قیاس آرائی یا تبادلے کی وجہ بیان نہیں کی گئی۔
نیکٹا قومی سطح پر دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف پالیسی، معلومات، تجزیے اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان رابطے کے لیے قائم قانونی ادارہ ہے۔ نیکٹا ایکٹ کے تحت نیشنل کوآرڈینیٹر ادارے کی انتظامی قیادت سنبھالتا اور متعلقہ حکومتی، قانون نافذ کرنے والے اور سکیورٹی اداروں کے درمیان پالیسی ہم آہنگی میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ نیکٹا کی اپنی بیان کردہ ذمہ داری قومی اور بین الاقوامی سطح پر متعلقہ فریقوں کی انسدادِ دہشت گردی اور انسدادِ انتہاپسندی کوششوں کی قیادت، رابطہ کاری اور ہم آہنگی ہے۔
قومی میڈیا کی رپورٹس میں اس تقرری کو نیکٹا کی روایتی قیادت کے طریقے سے مختلف قرار دیا گیا ہے، کیونکہ ماضی میں نیشنل کوآرڈینیٹر کے عہدے پر زیادہ تر پولیس سروس یا سول انتظامیہ کے سینئر افسران تعینات رہے۔ تاہم کسی حاضر سروس فوجی افسر کی تعیناتی بذاتِ خود ادارے کے قانونی مینڈیٹ، وزارتِ داخلہ کے انتظامی تعلق یا وفاقی و صوبائی ذمہ داریوں کو خودکار طور پر تبدیل نہیں کرتی۔ عملی تبدیلی کا انحصار جاری ہونے والی پالیسی ہدایات، وسائل، ادارہ جاتی طریقۂ کار اور متعلقہ فورمز کے فیصلوں پر ہوگا۔
نیکٹا کو گزشتہ برسوں میں بار بار قیادت کی تبدیلی، محدود نفاذی اختیار اور مختلف اداروں کے درمیان رابطے کی مشکلات کا سامنا رہنے کی نشاندہی کی جاتی رہی ہے۔ نیشنل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر سمیت نئے رابطہ اور خطرہ تجزیہ انتظامات نے اس کے کردار کو دوبارہ اہم بنایا ہے۔ نئی تقرری کے بعد اہم سوال یہ ہوں گے کہ قومی ایکشن پلان کی نگرانی، خطرات کے مشترکہ جائزے، صوبائی کاؤنٹر ٹیررازم محکموں کے ساتھ رابطے اور پالیسی سفارشات کو قابلِ پیمائش نتائج میں کس طرح تبدیل کیا جاتا ہے۔
اس تقرری کو کسی زیرِ التوا تحقیقات، الزام یا ثابت شدہ کارکردگی کے فیصلے سے جوڑنے والی بات سرکاری نوٹیفکیشن میں موجود نہیں۔ رپورٹنگ کی قابلِ تصدیق بنیاد تقرری، قانونی دفعہ، سیکنڈمنٹ، تین سالہ مدت اور فوری نفاذ ہے۔ نئی قیادت کی کارکردگی کا جائزہ آئندہ پالیسی اقدامات، ادارہ جاتی شفافیت، پارلیمانی و انتظامی نگرانی اور انسدادِ دہشت گردی رابطہ کاری کے نتائج کی بنیاد پر کیا جائے گا۔




