اسلام آباد: مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو منگل کو تین روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔ یہ دورہ وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ہو رہا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 60 ویں سالگرہ کے موقع پر اعلیٰ سطح رابطوں کا حصہ ہے۔ دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق کسی مالدیپی صدر کا پاکستان کا یہ 11 سال بعد پہلا دورہ ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق صدر معیزو اپنے قیام کے دوران صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے، جبکہ صدر پاکستان ان کے اعزاز میں سرکاری ضیافت کی میزبانی بھی کریں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور مالدیپی صدر کے درمیان محدود سطح اور وفود کی سطح پر مذاکرات بھی طے ہیں۔ ان ملاقاتوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بات چیت میں تجارت، سرمایہ کاری، صحت، تعلیم، سیاحت، زراعت، دفاع، سمندری سلامتی، موسمیاتی تبدیلی اور عوامی روابط سمیت متعدد شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات زیر غور آئیں گے۔ دونوں رہنما باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

دورے کے دوران پاکستان-مالدیپ بزنس فورم کے انعقاد کا بھی پروگرام ہے، جس کا مقصد دونوں ملکوں کی کاروباری برادریوں کے درمیان رابطے بڑھانا اور تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی توقع بھی کی جا رہی ہے۔ حتمی طور پر کن دستاویزات پر دستخط ہوں گے، اس کی تفصیل مذاکرات مکمل ہونے کے بعد واضح ہوگی۔

مالدیپ کا اعلیٰ سطح وفد، جس میں وزیر خارجہ اور دیگر کابینہ ارکان و سینئر حکام شامل ہیں، صدر معیزو سے پہلے اسلام آباد پہنچا۔ پاکستانی اور مالدیپی سفارتی حکام نے وفد کا استقبال کیا۔

پاکستان اور مالدیپ جنوبی ایشیا اور بحر ہند کے خطے میں واقع دو مسلم اکثریتی ممالک ہیں۔ موجودہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب اسلام آباد علاقائی تجارت، سرمایہ کاری اور سمندری تعاون کو وسعت دینے پر زور دے رہا ہے۔ صدر معیزو کے دورے سے دونوں حکومتوں کو موجودہ تعلقات کا جائزہ لینے کے ساتھ عملی تعاون کے نئے شعبوں پر اتفاق رائے پیدا کرنے کا موقع ملے گا۔ دورے کے نتائج کا اصل پیمانہ مذاکرات کے بعد ہونے والے اعلانات، طے پانے والے معاہدوں اور ان پر عمل درآمد ہوگا۔