خیبر پختونخوا میں گلیشیائی جھیل پھٹنے سے ممکنہ سیلاب، یعنی گلاف، کے خدشے کے بعد مانسہرہ اور اپر کوہستان کی ضلعی انتظامیہ نے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی وارننگ کے تناظر میں دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب رہنے والے شہریوں کو محتاط رہنے اور ضرورت پڑنے پر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مانسہرہ کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر برائے ریلیف و انسانی حقوق اسد محمود لودھی نے ایک اجلاس میں کہا کہ موجودہ ہفتے کے دوران درجہ حرارت میں اضافے اور بارش کے باعث گلاف واقعات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ انہوں نے ریسکیو 1122 اور تحصیل انتظامیہ کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی۔
حکام کے مطابق کاغان اور سرن وادیوں سمیت بلند پہاڑی علاقوں میں گرم موسم سے برف اور گلیشیئر پگھلنے کی رفتار بڑھ سکتی ہے۔ انتظامیہ نے دریا کنارے آبادیوں تک وارننگ پہنچانے اور خطرے کی صورت میں قریبی محفوظ مقامات کی نشاندہی کرنے پر زور دیا ہے۔ گلاف ایک ایسا اچانک سیلاب ہوتا ہے جو گلیشیائی جھیل میں جمع پانی کے قدرتی بند کے ٹوٹنے یا کمزور ہونے سے پیدا ہو سکتا ہے۔
اپر کوہستان کی ضلعی انتظامیہ نے بھی پہاڑی علاقوں کے لیے ایک ہفتے کی وارننگ جاری کی ہے۔ مقامی آبادی کو دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز، مویشی بلند مقامات پر منتقل کرنے اور کم از کم 4 ستمبر تک موسم اور پانی کی سطح سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کا کہا گیا ہے۔ انتظامیہ نے محکمہ موسمیات کے حوالے سے پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافے کے امکان کی نشاندہی کی۔
ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے پہاڑی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں اور شدید بارش سے پیدا ہونے والے سیلابی خطرات موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ بڑھتی تشویش کا موضوع ہیں۔ ہر وارننگ کا مطلب یہ نہیں کہ لازماً گلاف واقعہ پیش آئے گا، لیکن بلند درجہ حرارت اور بارش کے امتزاج میں پیشگی تیاری جانی نقصان کم کرنے کے لیے اہم ہوتی ہے۔ مقامی انتظامیہ کی موجودہ ہدایات احتیاطی نوعیت کی ہیں اور شہریوں سے سرکاری الرٹس کی مسلسل نگرانی کا کہا گیا ہے۔




