اسلام آباد: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے 20 ستمبر کو ہونے والے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ کے انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے امتحان لینے والی جامعات کو شفاف، منظم اور محفوظ انعقاد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ پی ایم ڈی سی کے مطابق 2026 کے ایم ڈی کیٹ کے لیے مجموعی طور پر 138,158 امیدوار رجسٹرڈ ہیں۔
ٹیسٹ پاکستان کے 35 شہروں اور قصبوں میں منعقد ہوگا جبکہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بھی ایک بین الاقوامی امتحانی مرکز قائم کیا جائے گا۔ پاکستان میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لیے ایم ڈی کیٹ پاس کرنا لازمی ہے۔ ہر سال بڑی تعداد میں امیدوار امتحان دیتے ہیں جبکہ سرکاری اور نجی میڈیکل و ڈینٹل کالجوں میں دستیاب نشستوں کی تعداد اس سے کہیں کم ہوتی ہے۔
پی ایم ڈی سی صدر پروفیسر ڈاکٹر رضوان تاج نے امتحان منعقد کرنے والی جامعات کے وائس چانسلرز کے اجلاس میں تیاریوں کا جائزہ لیا۔ کونسل کے بیان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی امتحان کے منصفانہ، شفاف اور نظم و ضبط کے ساتھ انعقاد کی ہدایت کی ہے اور امتحانی عمل کی دیانت پر کسی سمجھوتے سے گریز پر زور دیا گیا۔
اجلاس میں امتحانی مراکز پر طبی امداد، ہنگامی ردعمل، امیدواروں کی سہولت، مناسب نشستوں، بنیادی سہولیات اور سکیورٹی انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ آزاد جموں و کشمیر سمیت تمام امیدواروں کے لیے محفوظ اور موزوں ماحول فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔ صوبائی حکام اور جامعات نے ضروری انتظامات بروقت مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
پی ایم ڈی سی نے سوالیہ پرچوں کے لیے یکساں ریگولیٹری معیارات فراہم کیے ہیں، تاہم امتحان کے زمینی انتظام، مراکز پر شفافیت اور پرچوں کی رازداری کی ذمہ داری متعلقہ صوبائی حکام اور امتحان لینے والی جامعات پر ہوگی۔ اس تقسیمِ ذمہ داری کے باعث مقامی انتظامات کے ساتھ مرکزی ضابطوں کی یکساں پابندی امتحان کی ساکھ کے لیے اہم ہوگی۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے بھی رواں ہفتے ایم ڈی کیٹ کے لیے مکمل شفافیت اور فول پروف سکیورٹی کا مطالبہ کیا تھا۔ گزشتہ برسوں میں داخلہ امتحانات کے حوالے سے سامنے آنے والے تنازعات کے باعث اس سال انتظامی تیاری، سوالیہ پرچوں کی حفاظت اور امیدواروں کے مساوی مواقع پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔




