کراچی: 25 سالہ میر رضا علی کی موت کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے دستیاب طبی اور مادی شواہد کی بنیاد پر واقعے کو خودکشی کے بجائے قتل قرار دیا ہے اور حقیقت سامنے لانے کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی سفارش کی ہے۔ ایک رکنی کمیشن سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال پر مشتمل تھا اور اس نے اپنی رپورٹ 15 اکتوبر کو وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کی۔
رپورٹ کے مطابق گولی کے زخم کی سمت، جسم کی حالت، خون کے آثار سے متعلق سوالات، تیزاب سے جلنے کے نشانات اور خون میں بے ہوشی کی دوا کی موجودگی سمیت متعدد عوامل خودکشی کے مفروضے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ کمیشن نے پولیس کی ابتدائی تحقیقات پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اہم شواہد کے متاثر ہونے اور تفتیشی خامیوں کے باعث عوامی اعتماد شدید طور پر مجروح ہوا۔
کمیشن نے سفارش کی ہے کہ جے آئی ٹی کی سربراہی ڈی آئی جی عرفان بلوچ کریں اور اس میں آئی ایس آئی، انٹیلی جنس بیورو، پاکستان رینجرز سندھ اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے سینئر نمائندے شامل ہوں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر معمولی نوعیت کی یہ تجویز خاندان کی درخواست اور موجودہ تحقیقات پر اعتماد کے بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے دی گئی ہے۔ جے آئی ٹی کی تشکیل کی سفارش خود کسی شخص کو قاتل قرار دینے کے مترادف نہیں؛ ذمہ داری کا تعین مزید تفتیش اور قانونی عمل سے ہوگا۔
عدالتی کمیشن نے پولیس کی ابتدائی کارروائی میں ممکنہ خامیوں کی الگ جانچ کی بھی سفارش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک اعلیٰ سطح کمیٹی، ترجیحاً وفاقی تحقیقاتی ادارے کی سربراہی میں، یہ دیکھے کہ ابتدائی دس دن کی تفتیش میں شامل پولیس اہلکاروں نے شواہد یا سرکاری فرائض سے متعلق پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات کی خلاف ورزی تو نہیں کی۔ کمیشن نے ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ تحقیقات اور پولیس کی جانب سے اپنی عملی ناکامیوں کو تسلیم کرنے کی ضرورت بھی بیان کی۔
رپورٹ نے میڈیکل بورڈ میں تبدیلی کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے اور اسے قانونی و انتظامی لحاظ سے غیر معمولی قرار دیا۔ یہ عدالتی کمیشن کی findings اور سفارشات ہیں؛ ان پر حتمی فوجداری ذمہ داری یا سزا کا فیصلہ عدالت اور مجاز تحقیقاتی ادارے قانونی شواہد کی بنیاد پر کریں گے۔ اگلا اہم مرحلہ صوبائی حکومت کی جانب سے سفارشات پر عمل اور مجوزہ جے آئی ٹی کی تشکیل ہوگا۔

