مہمند: خیبر پختونخوا کے ضلع مہمند میں پولیو ویکسینیشن ٹیم کی سیکیورٹی ڈیوٹی پر جاتے ہوئے پولیس اہلکاروں پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے دو اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوگیا۔ پولیس حکام کے مطابق حملہ پنڈیالی تحصیل کے ڈاگ تمّن زئی علاقے میں ہاشم کور پولیس چیک پوسٹ کے قریب پیش آیا، جہاں اہلکار جاری انسداد پولیو مہم کے دوران ٹیم کی حفاظت کے لیے جا رہے تھے۔

ہیڈکوارٹرز کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس لیاقت علی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کی شناخت کانسٹیبل ظہور خان اور اربی خان کے نام سے کی، جبکہ سپاہی صابر خان زخمی ہوا۔ ضلعی پولیس کے مطابق حملے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ حملہ آوروں کی شناخت کے بارے میں فوری طور پر حتمی معلومات سامنے نہیں آئیں، اس لیے واقعے کی ذمہ داری کسی گروہ سے منسوب نہیں کی جا سکتی جب تک حکام یا قابل اعتماد شواہد اس کی تصدیق نہ کریں۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملے کی مذمت کی اور پولیو ٹیموں کی حفاظت پر مامور شہید پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ خیبر پختونخوا میں پولیو ٹیموں اور ان کی سیکیورٹی پر حملے مہم کے لیے ایک مسلسل خطرہ رہے ہیں، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں امن و امان کی صورت حال ویکسینیشن عملے کی رسائی کو محدود کرتی ہے۔

یہ واقعہ ملک میں جاری ذیلی قومی انسداد پولیو مہم کے دوران پیش آیا ہے، جس میں 97 زیادہ خطرے والے اضلاع میں تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو ویکسین پلانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں پولیو وائرس اب بھی مقامی طور پر موجود ہے۔ پاکستان میں رواں سال بھی پولیو کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تعداد خیبر پختونخوا سے سامنے آئی ہے۔

مہمند کے حملے کے ساتھ خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں پولیو عملے کو درپیش سیکیورٹی واقعات نے مہم کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔ ٹانک میں پولیو کارکنوں کے اغوا کی اطلاعات پر صوبائی حکام نے ان کی بازیابی کے لیے اقدامات کی ہدایت بھی کی ہے۔ ان واقعات کا براہ راست اثر ویکسینیشن کی رسائی پر پڑ سکتا ہے، کیونکہ ہر متاثرہ علاقے میں مہم جاری رکھنے کے لیے صحت کارکنوں کے ساتھ مؤثر سیکیورٹی انتظام ناگزیر ہوتا ہے۔