خیبر پختونخوا کے ضلع مہمند میں پولیو مہم کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے ایک حملے میں دو اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوگیا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکار منگل کو پولیو ویکسینیشن ٹیموں کی حفاظت کے لیے جا رہے تھے جب موٹر سائیکل پر سوار مشتبہ حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کردی۔ حملہ آور کارروائی کے بعد موقع سے فرار ہوگئے اور فوری طور پر کسی گروہ نے واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب پاکستان نے ملک گیر انسداد پولیو مہم شروع کی ہے، جس کے دوران تقریباً دو کروڑ چالیس لاکھ بچوں کو ویکسین پلانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ پولیو کارکنوں اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کو ماضی میں بھی شدت پسند حملوں کا سامنا رہا ہے۔ ایسے حملوں کے باعث بعض علاقوں میں ویکسینیشن ٹیموں کی رسائی اور سکیورٹی انتظامات ایک مستقل چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ نے مہمند میں پولیس اہلکاروں پر حملے کی مذمت کی اور شہید اہلکاروں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ واقعے کے ذمہ داروں کی شناخت یا گرفتاری کے بارے میں ابتدائی رپورٹ میں کوئی تصدیق نہیں کی گئی، اس لیے حملہ آوروں کی وابستگی کے بارے میں قیاس آرائی سے گریز ضروری ہے۔

اسی دوران خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں چار پولیو کارکنوں کے اغوا کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ صوبائی گورنر فیصل کریم کنڈی نے ان کارکنوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے اقدامات پر زور دیا۔ دونوں واقعات انسداد پولیو مہم کے دوران سکیورٹی کے دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم یہ الگ واقعات ہیں اور مہمند حملے کے حملہ آوروں سے ان کے کسی تعلق کی تصدیق نہیں ہوئی۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان اور افغانستان وہ دو ممالک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس اب بھی مقامی سطح پر موجود ہے۔ اس پس منظر میں ہر قومی ویکسینیشن مہم صحت عامہ کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اداروں کے لیے بھی اہم امتحان بن جاتی ہے۔ مہمند کے واقعے کے بعد پولیو ٹیموں کی حفاظت اور حملہ آوروں کی تلاش سے متعلق مزید سرکاری تفصیلات کا انتظار ہے۔